بھارت میں اسٹارلنک کی منظوری پر تنازع، ایلون مسک کے الزامات کی بھارتی حکومت نے تردید کر دی

بھارتی حکومت نے امریکی ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ بھارت کی بااثر کاروباری شخصیات اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے ان کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنی اسٹارلنک کو ملک میں کام شروع کرنے سے روک رہی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ بعض بااثر کاروباری شخصیات بھارتی عوام پر اپنی کاروباری اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے اسٹارلنک کی سروس شروع ہونے میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے کسی فرد یا کمپنی کا نام نہیں لیا۔

بھارت کی ٹیلی کمیونیکیشن مارکیٹ میں ارب پتی کاروباری شخصیات مکیش امبانی کی ریلائنس جیو اور سنیل متل کی بھارتی ایئرٹیل نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ ان دونوں کمپنیوں کے سیٹلائٹ انٹرنیٹ منصوبوں اور ایلون مسک کی اسٹارلنک کو ابتدائی منظوری مل چکی ہے، لیکن سروس کے آغاز کے لیے فریکوئنسی اسپیکٹرم کی تقسیم اور حتمی ریگولیٹری اجازت ابھی باقی ہے۔

بھارتی وزارتِ ٹیلی کمیونیکیشن نے ایلون مسک کے بیان کے جواب میں کہا ہے کہ تینوں متعلقہ ادارے تقریباً ایک ہی ریگولیٹری مرحلے پر ہیں اور ان کی سکیورٹی جانچ جاری ہے۔ وزارت کے مطابق منظوری کے نظام کو غیر منصفانہ یا امتیازی قرار دینے کا الزام بے بنیاد اور غلط فہمی پر مبنی ہے۔

رائٹرز کے مطابق اسٹارلنک گزشتہ چار برس سے بھارتی مارکیٹ میں اپنی سروس شروع کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم سکیورٹی تقاضوں اور اسپیکٹرم کی دستیابی سے متعلق معاملات کے باعث اسے تاخیر کا سامنا ہے۔ ریلائنس جیو اور بھارتی ایئرٹیل نے تازہ الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

ایلون مسک اور بھارتی ٹیلی کام کمپنیوں کے درمیان اختلافات نئے نہیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی اسپیکٹرم کی تقسیم کے طریقہ کار پر ان کے درمیان تنازع رہا ہے۔ تاہم 2025 میں جیو اور ایئرٹیل نے الگ الگ معاہدوں کے تحت بھارت میں اسٹارلنک کے آلات کی تقسیم پر اتفاق کیا تھا۔

اسٹارلنک امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کا حصہ ہے اور سیٹلائٹ کے ذریعے ایسے علاقوں میں انٹرنیٹ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جہاں روایتی براڈبینڈ کا بنیادی ڈھانچہ محدود ہے۔ مشاورتی ادارے ڈیلوئٹ کے تخمینے کے مطابق بھارت کی سیٹلائٹ براڈبینڈ مارکیٹ 2030 تک ایک ارب 90 کروڑ ڈالر کی ہو سکتی ہے۔

اس معاملے کی سفارتی اہمیت بھی ہے، کیونکہ امریکا نے مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں اسٹارلنک کو مارکیٹ تک رسائی دینے کا معاملہ اٹھایا ہے۔ بھارت اور امریکا کے درمیان فروری میں تجارتی فریم ورک پر اتفاق کے باوجود حتمی تجارتی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

دوسری جانب بھارت میں اسٹارلنک کے آلات کی برآمدگی سے سکیورٹی خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ بھارتی حکام کے مطابق 2024 کے آخر میں جزائر انڈمان و نکوبار میں منشیات کی ضبطی اور ریاست منی پور میں فوجی تلاشی کے دوران اسٹارلنک کے آلات ملے تھے۔

ایلون مسک نے اس وقت وضاحت کی تھی کہ بھارت میں اسٹارلنک کے سیٹلائٹ سگنلز بند ہیں اور کمپنی کی سروس وہاں کبھی فعال ہی نہیں ہوئی۔ انہوں نے بدھ کو بھی اپنا یہی مؤقف دہرایا۔

بھارت میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی سروس شروع ہونے کا انحصار اب اسپیکٹرم کی تقسیم، سکیورٹی جانچ اور حتمی حکومتی منظوریوں پر ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں