ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے صدر ماساتو کانڈا نے پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی درخواست پر ایشیا پیسیفک ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ سے 30 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد فراہم کی جائے گی۔
ماساتو کانڈا نے کہا کہ پاکستان اس وقت تباہ کن سیلابی صورتحال سے دوچار ہے جس نے خاندانوں اور کمیونٹیز کو بے گھر کر دیا ہے، اور اے ڈی بی اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ جب آفات آتی ہیں تو ہم تیزی سے مدد فراہم کرتے ہیں تاکہ متاثرہ افراد باعزت طریقے سے اپنی زندگیوں کو دوبارہ تعمیر کر سکیں۔ یہ ہنگامی امداد پاکستان کے عوام کے ساتھ ہماری طویل المدتی شراکت داری اور وابستگی کی عکاس ہے۔
ماساتو کانڈا تین روزہ دورے پر پاکستان میں موجود ہیں۔ اسلام آباد میں وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران ٹرانسپورٹ، توانائی، شہری انفراسٹرکچر، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اے ڈی بی کی سرمایہ کاری پر بات ہوئی۔ اس موقع پر اے ڈی بی کے صدر نے پاکستان کی اصلاحاتی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری اس بات کی علامت ہے کہ ملکی وسائل کو بہتر طور پر بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
انھوں نے پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور ریکوڈک منصوبے کے لیے 21 اگست کو منظور ہونے والے 41 کروڑ ڈالر کے فنانسنگ پیکج کا بھی ذکر کیا۔ یہ پیکج چار دہائیوں بعد معدنیات کے شعبے میں اے ڈی بی کی واپسی ہے۔ ریکوڈک دنیا کے بڑے سونے اور تانبے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے، جو پاکستان کو صاف توانائی کی عالمی منتقلی میں اہم کردار ادا کرنے میں مدد دے گا۔