پاکستان: پروف آف رجسٹریشن کارڈ رکھنے والےافغان مہاجرین کے خلاف کارروائی کی ہدایت

پاکستانی حکومت نے افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے اور غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم افغان باشندوں کے خلاف جاری آپریشن کے بعد اب پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ کے حامل افغان شہریوں کے خلاف بھی کارروائی شروع کرنے کے لیے اسلام آباد اور صوبوں کی انتظامیہ کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔

یاد رہے کہ، ان پی او آر کارڈ ہولڈرز کو پہلے ہی 30 جون تک پاکستان چھوڑنے کی مہلت دی گئی تھی۔

تاہم، اب وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ، چونکہ اب تک اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر سے رجسٹرڈ ان افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، لہٰذا ان کے خلاف بھی اسی نوعیت کی کارروائی کی جائے جیسے افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے باشندوں کے خلاف کی گئی۔

بین الاقوامی میڈیا ادارےبی بی سی کےمطابق، اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بتایاکہ پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کی فہرستیں پہلے ہی تیار کی جا چکی ہیں، اور پولیس نے ان علاقوں کی بھی نشاندہی کر لی ہے جہاں یہ مہاجرین قیام پذیر ہیں۔ البتہ چونکہ اس وقت محرم الحرام کی مجالس جاری ہیں، اس لیے پولیس کی بڑی نفری ان تقاریب کی سیکیورٹی پر مامور ہے، تاہم افغان باشندوں کی واپسی سے متعلق انتظامات اب بھی اپنی جگہ قائم ہیں۔

وزارت داخلہ کے ایک اور اہلکار نے انکشاف کیا کہ، کچھ روز قبل اقوام متحدہ کے نمائندوں نے سرحدی و ریاستی امور کی وزارت کے حکام سے ملاقات کی تھی اور پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کے قیام میں توسیع کی درخواست کی تھی۔ اس پر متعلقہ وزارت نے وزارت داخلہ کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں ان افراد کے قیام میں تین سے چھ ماہ اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

تاہم، اس توسیع کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جانا باقی ہے۔ اہلکار کے مطابق، منگل کے روز کابینہ کا اجلاس منعقد نہیں ہو رہا، لیکن ممکن ہے کہ، ایک سرکلر سمری کے ذریعے اس توسیع کی منظوری حاصل کر لی جائے۔

واضح رہے کہ، وزارت داخلہ کے مطابق، اس وقت پاکستان میں پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کی تعداد 12 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں