کینیڈا میں ماہرینِ ارضیات کو ایک عجیب و غریب اور نایاب سمندری شکاری جانور کی باقیات ملی ہیں، جو کروڑوں سال قبل زمین پر موجود تھا۔ نئی تحقیق کے مطابق یہ جانور ایلاسموسور کی ایک نئی نسل سے تعلق رکھتا ہے، جسے باقاعدہ طور پر “ٹراسکاسوارا سینڈرے” (Taksashua sandaari) کا نام دیا گیا ہے۔
یہ تحقیق حال ہی میں “جرنل آف سیسٹیمیٹک پیلیونٹولوجی” میں شائع ہوئی ہے۔
ٹراسکاسوارا سینڈرے ایک سمندری رینگنے والا جانور تھا جو آج سے تقریباً 85 ملین سال پہلے زمین پر پایا جاتا تھا۔ اس کی ساخت میں سانپ جیسی لمبی گردن، بڑا سر، طاقتور جبڑا، اور انتہائی تیز دانت شامل تھے جو اسے ایک خطرناک شکاری بناتے تھے۔ یہ جانور ایلاسموسورز کی اس نسل سے تعلق رکھتا ہے جو مختلف جسمانی خصوصیات کی بنیاد پر پہلے دریافت شدہ اقسام سے کافی منفرد ہے۔
یہ مخلوق پلیسیوسورس کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے — وہ سمندری رینگنے والے جانور جو ٹریاسک دور (215 ملین سال پہلے) سے لے کر کریٹاسیئس دور (66 ملین سال پہلے) تک موجود تھے۔ اس دریافت سے ماہرین کو قدیم سمندری حیات، ارتقائی تبدیلیوں اور مختلف ماحولیاتی حالات کے ساتھ ان جانداروں کی مطابقت کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
یہ دریافت کینیڈا کو دنیا کے اُن خطوں میں شامل کر دیتی ہے جہاں ماضی کی نایاب اور ناقابلِ یقین سمندری حیات کے اہم شواہد ملے ہیں۔