ترمذ میں وسطی اور جنوبی ایشیا کے روابط پر بین الاقوامی فورم کا انعقاد

ازبکستان کے سرحدی شہر ترمذ میں “امن، دوستی اور خوشحالی کی مشترکہ فضا کی تشکیل” کے عنوان سے وسطی اور جنوبی ایشیا کے مابین روابط سے متعلق پہلا “ترمذ ڈائیلاگ” فورم منعقد ہوا، جس میں دنیا بھر کی نامور تحقیقی و سفارتی تنظیموں اور اداروں کے ماہرین، سفارتکار اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اس فورم میں پرائماکوف نیشنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز، انڈین کونسل آف ورلڈ افیئرز، آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن، انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد، چینی اکیڈمی آف سوشل سائنسز سمیت متعدد اداروں کے نمائندگان شریک ہوئے۔ اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم، سی آئی ایس، او ایس سی ای، آئی او ایم، اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے وفود بھی موجود تھے۔

پاکستان کے ازبکستان میں سفیر احمد فاروق نے کہا کہ ازبکستان وسطی ایشیا کے مرکز میں واقع ایک اہم ملک ہے، جو اپنی عوام دوست پالیسیوں کے باعث ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعاون میں بے پناہ امکانات موجود ہیں، اور یہ فورم علاقائی سلامتی، ترقی اور باہمی روابط کو فروغ دینے کی اہم کوشش ہے، جس میں پاکستان مکمل تعاون فراہم کرے گا۔

افغانستان کی غزنفر بینک کے سی ای او خن اللہ یوسفزئی نے فورم کو قابل تحسین اقدام قرار دیا اور کہا کہ ازبکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی حجم ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بینک تجارتی مالیات، آپریشنز، اور مالی لین دین کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے، اور مستقبل میں ترمذ میں بینک کی شاخ کھولنے کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ماہرین نے زور دیا کہ وسطی ایشیا کی معیشت کا حجم تقریباً 500 ارب ڈالر ہے جبکہ جنوبی ایشیا تین کھرب ڈالر سے زائد کی اقتصادی قوت رکھتا ہے۔ ان دونوں خطوں کو آپس میں جوڑنے سے تجارت، سرمایہ کاری، اور مالی روابط میں انقلاب آ سکتا ہے۔ ترمذ اس سلسلے میں ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے جو خطے کی خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں