بائیں ہاتھ سے متعلق تمام تحقیقی مطالعوں سے ہم ایک بات واضح طور پر سمجھ سکتے ہیں: سائنس انتہائی پیچیدہ ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں میں بائیں ہاتھ والوں کے حوالے سے عمومی تاثر بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ اب اکثریت ایسا نہیں سوچتی کہ بائیں ہاتھ والے شیطانی قوتوں کے آلہ کار ہیں یا ان پر کوئی منفی اثرات ہیں۔ آج کے دور میں بائیں ہاتھ والوں کو ایک مثبت اور معقول انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ انہیں ذہین، منفرد انداز میں سوچنے والا اور فنون لطیفہ میں مہارت رکھنے والا تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم، کیا یہ تعریفی بیانات سائنسی تحقیق کی روشنی میں درست ہیں؟ کیا واقعی بائیں ہاتھ ہونا تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے؟
اس سوال کا جواب ممکنہ حد تک ‘ہاں’ یا ‘شاید’ ہے۔
سائنسدان طویل عرصے سے اس موضوع پر تحقیق کر رہے ہیں کہ بائیں ہاتھ ہونا کس حد تک مختلف ذہنی اور جسمانی خصوصیات سے منسلک ہے۔ وہ بائیں ہاتھ ہونے اور دماغی امراض، مدافعتی نظام کی کمزوری، مجرمانہ رجحانات، مسئلہ حل کرنے کی قابلیت، اور حتیٰ کہ عمر کی اوسط کے تعلقات کا جائزہ لیتے رہے ہیں۔ ان تمام مطالعات کا خلاصہ یہی ہے کہ سائنس پیچیدہ اور متنوع ہے۔
کچھ تحقیقی رپورٹس میں بائیں ہاتھ ہونے اور تخلیقی صلاحیتوں کے درمیان تعلق پایا گیا ہے، جس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہے کہ بائیں ہاتھ والے افراد کو ایک دائیں ہاتھ والوں کی دنیا میں خود کو مسلسل ڈھالنا پڑتا ہے، جو ان کی ذہنی لچک اور جدت پسندی کو فروغ دیتا ہے۔ تاہم، متعدد دیگر تحقیقات میں اس قسم کا کوئی واضح تعلق سامنے نہیں آیا۔
اس لئے سائنس کے پاس تو کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں البتہ یہ حقیقت ہے کہ بائیں ہاتھ والے یا اکثر لیفٹی حضرات تخلیقی مزاج اورصلاحیت رکھتےہیں۔ ویسے بھی بائیں ہاتھ سے لکھنےوالے مختلف اور منفرد تونظر آتے ہی ہیں۔ اس لئے اگر آپ کا کوئی بچہ فطری طور پر بائیں ہاتھ سے لکھنے کی کوشش کرے تو اسے روکیں ہرگز نہیں۔ یہ فطری ہے اور اس کا اسےفائدہ ہی پہنچے گا۔ البتہ اسے اگر مذہبی وجہ سےدائیں ہاتھ سے کھانا وغیرہ کھانے کا کہا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اکثر لیفٹی حضرات دائیں ہاتھ سے کھانا آسانی سے کھانے کی عادت بنا لیتےہیں۔