(ممتاز برطانوی میگزین اکانومسٹ نے آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے کہ کیا وہ چین میں اپنی سپلائی لائن متاثر کرنے کا رسک لے سکتی ہے۔ تاشقند اردو اپنے قارئین کے لئے اس رپورٹ کا اردو ترجمہ پیش کر رہا ہے)
ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی جنگ نے ہزاروں امریکی کمپنیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جن میں سب سے نمایاں ایپل ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی اپریل کے اوائل میں اس حد تک پہنچ گئی کہ چین میں بننے والے اور امریکہ میں فروخت ہونے والے ایپل کے اسمارٹ فونز پر 145 فیصد ٹیکس لگنے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ تاہم، 12 مئی کو ایک ابتدائی معاہدہ ہوا جس کے تحت زیادہ تر چینی مصنوعات پر عائد ٹیکسز کو 90 دنوں کے لیے 30 فیصد تک کم کر دیا گیا۔
کسی کو معلوم نہیں کہ آگے کیا ہوگا، لیکن رپورٹس کے مطابق ایپل نے کچھ آئی فون کی پیداوار چین سے بھارت منتقل کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔(یہ اور بات کہ صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے بھی ایپل کو وارننگ دے دی ہے)
اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں اربوں ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس معاہدے کے باوجود، 13 مئی کو ایپل کے حصص کی قیمت اس سال کے آغاز سے اب تک 13 فیصد کم ہو چکی تھی۔
ایپل کے سی ای او ٹم کُک کے لیے چین سے اپنا انحصار کم کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ وہی اس کمپنی کی وہاں بڑی موجودگی کے پیچھے موجود شخصیت ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے صحافی پیٹرک میک نے اپنی ایک نئی کتاب میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ ایپل کس طرح چین کے ساتھ نا قابلِ جدا تعلقات میں بندھ گیا اور عالمی تجارت کے بکھرنے کا مطلب دنیا کی سب سے قیمتی کمپنیوں میں سے ایک کے لیے کیا ہے۔ (ویسے ایپل کا کہنا ہے کہ کتاب میں بہت سی غلطیاں ہیں اور وہ اس کے کئی دعوے مسترد کرتا ہے۔)
ایپل میں یہ بحث کہ کون سا حصہ کہاں تیار ہوتا ہے، کمپنی کے قیام کے دنوں سے چل رہی ہے، جب 1970 کی دہائی میں یہ بات کمپنی کے لیے غیر معمولی تھی کہ مشینیں یا پرزے کمپنی کی نگرانی کے بغیر، یا امریکہ کے باہر بنائے جائیں۔ لیکن 1990 کی دہائی کے آخر میں، “ایپل نے اس حکمت عملی کو ترک کرنا شروع کیا اور اپنی پیداوار کو کنٹریکٹ مینوفیکچررز کے حوالے کر دیا۔”
میک لکھتے ہیں:
“چین اس وقت ایک مضبوط مقام پر تھا۔ فوکس کن، ایک تائیوانی کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ کمپنی، نے 1990 کی دہائی میں چین کی بڑی مگر غیر مہارت یافتہ مزدور قوت کو تربیت دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ فوکس کن کے بانی ٹیری گو کو چینی حکومتوں سے بڑی سبسڈی حاصل کرنے میں سیاسی چالاکی کا ماہر مانا جاتا ہے، جس کی بدولت انہوں نے چین میں اپنے فیکٹریوں کے لیے دنیا کی بہترین مشینری خریدی اور یوں اپنی کمپنی کو حریفوں پر برتری دی۔
جب ایپل نے اپنا میوزک پلیئر آئی پوڈ کی پیداوار فوکس کن کو سونپی، تو اس کی فروخت 2003 میں ایک ملین سے کم تھی جو 2005 میں 22 ملین سے زیادہ ہو گئی۔ اس کامیابی کو 2007 میں آئی فون کے ساتھ اور بھی زیادہ بڑھایا گیا۔ ناقدین نے فوکس کن میں ملازمین کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور خودکشیوں کی نشاندہی کی، لیکن کم لاگت کی وجہ سے دیگر کمپنیوں کو بھی چین میں منتقل ہونا پڑا۔ جلد ہی الیکٹرانک مصنوعات کی پیداوار کہیں اور مہنگی ہو گئی۔
2015 تک ایپل چین میں سالانہ تقریباً 55 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا تھا اور مسلسل ہزاروں انجینئرز کو تربیت کے لیے بھیجتا رہا۔ مگر حالیہ برسوں میں چین کی سخت گیر حکومت کے تحت ایپل کا انحصار خطرناک لگنے لگا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ کے دور حکومت میں حکام نے کمپنی سے مسلسل زیادہ مطالبات کیے، خاص طور پر ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حوالے سے۔ شی جن پنگ نے چینی عوام کو مقامی مصنوعات، جیسے ہواوے کے ڈیوائسز خریدنے کی ترغیب دی، جبکہ حکام کو کہا گیا کہ وہ آئی فون کی خریداری بند کریں۔ نتیجتاً، ایپل کی چین میں اسمارٹ فون کی فروخت گراوٹ کا شکار ہوئی۔
میک اپنے تجزیے میں سپلائی چین کی پیچیدگیوں کو بہت اچھے انداز میں بیان کرتے ہیں، مگر ان کی سیاسی تشریح کبھی کبھار قائل نہیں کرتی ہے، لیکن ان کی کتاب سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم سوال اٹھاتی ہے: کیا ایپل چین کے بغیر کامیاب ہو سکتا ہے؟ اگر جواب نہیں ہے، تو تجارتی جنگ کے ناکام ہونے سے ایپل کو عالمی معیشت سے کہیں زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے