پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے جمعرات کو ایک نیوز بریفنگ میں بتایا کہ انڈیا نے سات اور آٹھ مئی کی درمیانی رات ایک بار پھر پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ انڈیا نے مختلف مقامات پر ‘ہیرپ’ ڈرونز بھیجے تھے جن میں سے اب تک 12 ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے۔ ان ڈرونز کو لاہور، راولپنڈی، اٹک، گوجرانوالہ اور چکوال میں ناکارہ بنایا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، ایک ڈرون لاہور کے قریب گرا جس کے نتیجے میں چار فوجی اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ سندھ کے علاقے میانو سندھ میں ایک شہری ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت بھی پاکستانی فضائی حدود میں ڈرونز بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے اور یہ ایک بہت ہی سنگین معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا مساجد اور عام شہریوں پر حملے کر رہا ہے، تاہم پاکستانی مسلح افواج پوری طرح چوکس ہیں۔
یاد رہے کہ آئی ایس پی آر نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب یہ بھی بتایا تھا کہ انڈیا نے پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں چھ مختلف مقامات پر مجموعی طور پر 24 حملے کیے تھے۔ گزشتہ روز پاکستان نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس نے انڈیا کے پانچ طیارے اور ایک کمبیٹ ڈرون مار گرائے ہیں۔
دوسری جانب، انڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ‘آپریشن سندور’ کے تحت مجموعی طور پر 9 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ انڈین حملوں میں 31 افراد ہلاک اور 57 زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انڈیا نے کم عمر اور نہتے شہریوں اور مساجد کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ پاکستان نے اپنے دفاع میں صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کی تو انڈیا اپنی فوج کے ساتھ ان کی مدد کو اتر آیا اور وہ اپنی پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔