بدھ کی صبح علی الصبح، بھارت اور پاکستان کے درمیان گزشتہ دو ہفتوں کی غیر یقینی خاموشی اچانک ٹوٹ گئی۔
مارچ کے آخر میں کشمیر میں پیش آنے والے حملے میں 25 بھارتی سیاحوں اور ایک گائیڈ کی ہلاکت کے بعد، بھارتی حکومت نے واضح کر دیا تھا کہ وہ پاکستان کو اس کا ذمہ دار سمجھتی ہے اور اس کا بدلہ ضرور لے گی۔
بھارتی عوام اس حملے سے صدمے میں تھے، خصوصاً جب رپورٹس سامنے آئیں کہ سیاحوں کو صرف ہندو ہونے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز پر وزیراعظم نریندر مودی سے “سبق سکھانے” کے مطالبے زور پکڑ چکے تھے۔
تاہم دو ہفتے گزرنے کے باوجود کوئی بڑی کارروائی نہ ہونے پر شکوک پیدا ہو گئے تھے۔ مگر بدھ کی رات 1 بجے یہ سوال ختم ہو گیا۔
بھارتی فضائیہ اور ڈرونز کی مربوط کارروائی میں بھارت نے نو مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور پنجاب صوبے کے علاقے شامل تھے۔ 1971 کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ بھارتی میزائل پنجاب میں گرے۔
بھارت کا مؤقف تھا کہ اس نے صرف “دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے” پر حملہ کیا—ایسے کیمپ اور مدارس جو لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے گروہوں سے منسلک تھے۔ اس نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کے حملوں کا ہدف پاکستانی فوجی تنصیبات نہیں تھیں، اور تمام حملے بھارتی فضائی حدود سے کیے گئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارت نے شاید پاکستان کو ایک “آف ریمپ” فراہم کرنے کی کوشش کی تاکہ معاملات مزید نہ بگڑیں۔ دونوں ممالک اور ان کے اتحادی اس وقت کھلی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
پاکستان پہلے ہی داخلی سلامتی کے بحران سے گزر رہا ہے—افغان سرحد پر شدت پسندوں اور بلوچستان میں علیحدگی پسندوں سے نبرد آزما ہے، جبکہ معیشت بھی شدید دباؤ میں ہے اور شہباز شریف کی حکومت کمزور اور غیر مقبول سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے باوجود، پاکستان کے طاقتور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ بھارت کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بھارتی حملے کے بعد پاکستان کا ردعمل فوری اور سخت تھا: اسے بھارت کی جانب سے “اعلان جنگ” قرار دیا گیا۔ پاکستان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے بھارت کے پانچ فوجی طیارے مار گرائے، تاہم بھارت نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھارت پر “آگ بھڑکانے” کا الزام لگاتے ہوئے فوج کو مکمل اختیار دے دیا ہے کہ وہ ملکی خودمختاری کا دفاع کرے۔
پاکستان کی تاریخ میں فوج ہمیشہ سب سے طاقتور ادارہ رہی ہے۔ ایسے میں کمزور حکومت کے باعث فیصلہ سازی کا محور جنرل منیر بن چکے ہیں، جو بھارت مخالف سخت گیر خیالات کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ نے کہا، “تشویش کی بات یہ ہے کہ جنرل منیر ایک جذباتی اور قوم پرست جرنیل ہیں، اور وہ جارحانہ کارروائیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔”
بھارتی میزائل حملوں میں پنجاب کے تین مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک مسجد بھی شامل ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک سنگین پیغام ہے، کیونکہ پنجاب نہ صرف شریف خاندان کا سیاسی گڑھ ہے بلکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا مرکز بھی۔
اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کس چیز کو نشانہ بنائے گا؟ بھارت کی طرف ایسے دہشت گرد کیمپ موجود نہیں جن پر وہ آسانی سے حملہ کر سکے، اور بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنانا براہِ راست جنگ کی طرف قدم ہو گا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان جلد ردعمل دے گا—اور جتنا انتظار ہو گا، کشیدگی اتنی ہی بڑھے گی۔
سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان اب امریکہ جیسے مؤثر ثالث سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔ ماضی میں امریکہ نے کئی بار دونوں ممالک کو جنگ سے روکا ہے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں صورتحال مختلف ہے۔
بھارتی حملے کی خبر کے بعد ٹرمپ کا غیر سنجیدہ ردعمل تھا: “یہ دونوں کافی عرصے سے لڑ رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ جلد ختم ہو گا۔”
عائشہ صدیقہ نے کہا کہ اگر امریکہ جیسا طاقتور ثالث موجود نہ ہو، تو دونوں ممالک کی باہمی کشمکش آسانی سے جنگ میں بدل سکتی ہے۔ “میری تشویش یہ ہے کہ پہلی بار بھارت اور پاکستان شاید مکمل طور پر تنہا کھڑے ہیں،” انہوں نے کہا۔
(روزنامہ گارڈین، ترجمہ تنویر شہزاد۔ )