کاروبار کرنا، روزنامہ ڈان کا اداریہ

بات یہاں تک پہنچنی نہیں چاہیے تھی۔ ایک ہفتہ قبل، وزیر داخلہ محسن نقوی کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یہ باضابطہ یقین دہانی کرانی پڑی کہ ان کی سرمایہ کاری کو “ہر قیمت پر” تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

خبروں کے مطابق وزیر داخلہ نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ایک وفد کو بتایا کہ حکام نے حالیہ “شرپسندوں کے حملوں” کا نوٹس لیا ہے اور ان کے خلاف “قانونی کارروائی” کی جا رہی ہے۔ اگرچہ تفصیلات ناکافی تھیں، لیکن ان کے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ غیر ملکی فاسٹ فوڈ چینز پر حملے سرمایہ کاروں کی پریشانی کا خاص موضوع تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں کی ترغیب ایک مذہبی-سیاسی جماعت نے دی، جس کے بعد اپریل کے آغاز میں غزہ پر مظالم کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران مختلف شہروں میں کم از کم 10 فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹس پر حملے اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ ایک واقعے میں ایک ریسٹورنٹ ورکر نامعلوم افراد کی گولی کا نشانہ بھی بنا۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ حملے مسلسل کئی دن جاری رہے، تو ریاست کہاں تھی؟

جان و مال کے ایسے نقصانات کے بعد دی جانے والی یقین دہانیاں کھوکھلی محسوس ہوتی ہیں۔ یہ اس وقت سرمایہ کاروں کو زیادہ مطمئن نہیں کر سکتیں جب کئی دیگر مثالیں بھی ریاستی ناکامی کی وجہ سے کاروباری رکاوٹوں کی نشاندہی کرتی ہوں۔

مثلاً پاکستان کی کچھ اہم ترین مال بردار شاہراہیں صرف اس لیے دس دن تک بند رہیں کہ نہری منصوبوں پر سیاسی تنازع کے باوجود حکام نے بروقت اقدام نہیں کیا۔ خبروں کے مطابق سندھ میں مظاہرین کی جانب سے سڑکیں بند کرنے سے مقامی صنعتوں کو خام مال کی قلت کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث پیداوار رک گئی اور ملک کے دیگر حصوں میں ایندھن کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ اس رکاوٹ کے باعث کروڑوں ڈالر کی برآمدات سڑکوں پر پھنس گئیں اور ملک کے اندرونی تجارتی سرگرمیاں بھی منجمد ہو گئیں۔

اس تمام عرصے میں ریاست نے صرف تماشائی کا کردار ادا کیا، جب کہ کاروباروں نے اس سنگین غلطی کی بھاری قیمت چکائی۔ اور کون بھول سکتا ہے کہ گزشتہ برس ملک کی پوری آئی ٹی انڈسٹری کو اس وقت نقصان اٹھانا پڑا جب حکام نے مختلف حیلے بہانوں سے انٹرنیٹ سروسز معطل کیں۔

یہ تو صرف چند مثالیں ہیں جنہیں ‘غیر متوقع لیکن قابلِ پیشگوئی’ رکاوٹیں کہا جا سکتا ہے، جن کا سرمایہ کاروں کو آئے دن سامنا ہوتا ہے۔ موجودہ سماجی-سیاسی عدم استحکام، کمزور اداروں اور خود ریاست کی کمزور ہوتی گرفت کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو یہ مسلسل خطرہ لاحق رہتا ہے کہ ان کے معمول کے کاروباری آپریشنز کسی بھی وقت معطل ہو سکتے ہیں۔

یہ ‘معمول کی غیر یقینی صورتحال’ کاروباری تسلسل اور ترقی کی دشمن ہے، کیونکہ اس کے تمام خطرات اور اخراجات کاروباری اداروں کو ہی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے جتنا وقت اور وسائل صرف کرتی ہے، اس کے پیش نظر یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوشش کیوں نہیں کرتی۔ اور جب قانون کا نفاذ ہی نہ ہو، تو یہی عدم تحفظ سرمایہ کاروں کو دور کرتا ہے۔

مسائل کی علامات کا علاج کر لینا وقتی ریلیف تو دے سکتا ہے، لیکن جب تک ان کی جڑوں کو نہ چھیڑا جائے، اس کا دیرپا حل ممکن نہیں۔

شائع شدہ: ڈان، 5 مئی 2025

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں