تاشقند میں منعقد ہونے والا پہلا “وسطی ایشیا – خلیجی تعاون کونسل (GCC) تھنک ٹینک فورم” کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ یہ دو روزہ فورم انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سنٹرل ایشیا (IICA) اور بورس اینڈ بازار ریسرچ فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقد ہوا، جس میں اقتصادی تعاون، انسانی و ثقافتی تبادلوں اور بین الاقوامی مکالمے کے ادارہ جاتی قیام پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
فورم کے دوسرے روز ماہرین نے خلیجی ممالک، جاپان، اور جنوبی کوریا کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ رجحان وسطی ایشیا کے ساتھ صنعتی تعاون کو مزید تقویت دینے کا باعث بن رہا ہے۔
انسانی و ثقافتی تبادلے پر ہونے والے سیشن میں تعلیمی شراکت، نوجوانوں کے پروگرام، سیاحت اور سول سوسائٹی کی سرگرمیوں کو باہمی سمجھ بوجھ اور اعتماد سازی کے اہم ذرائع قرار دیا گیا۔ اس ضمن میں مشترکہ یونیورسٹی پروگرامز، یوتھ فورمز، ثقافتی میلوں، اور غیر منافع بخش تنظیموں کی مدد جیسے اقدامات پر غور کیا گیا۔
فورم کے دوران بورس اینڈ بازار فاؤنڈیشن کی جانب سے وسطی ایشیا کے کئی ممالک میں کرائے گئے ایک سماجی سروے کے نتائج بھی پیش کیے گئے، جن سے معلوم ہوا کہ خطے کے نوجوان خلیجی ممالک کی سیاحت، تعلیم اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں سے مکمل طور پر واقف نہیں۔ اس کمی کو دُور کرنے کے لیے انسانی و معلوماتی تبادلے میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
فائنل سیشن میں ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے راستے تلاش کیے گئے۔ ماہرین نے 2023 میں جدہ میں سنٹرل ایشیا – جی سی سی فارمیٹ کے آغاز اور 2025 میں سمرقند میں اس کے آئندہ اجلاس کو دونوں خطوں کے درمیان طویل مدتی شراکت داری کے قیام کی جانب عملی قدم قرار دیا۔ ساتھ ہی، اس فارمیٹ کے تحت وزارتی اور ماہر سطح کی باقاعدہ ملاقاتوں کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
اختتامی بریفنگ میں IICA کے ڈائریکٹر جاولون واخابوف نے کہا کہ فورم محض خیالات کے تبادلے کا پلیٹ فارم نہیں رہا بلکہ اس میں متعدد عملی منصوبے اور تجاویز بھی سامنے آئیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ تعاون مخصوص اور قابلِ پیمائش اقدامات کے ذریعے جاری رہے گا، جن میں نوجوان ماہرین اور محققین کی شمولیت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
شرکاء نے فورم کو نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے اس کی اعلیٰ تنظیم اور گہرے مکالمے کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وسطی ایشیا اور خلیجی ممالک کے تعلقات اب نیت سے عمل کی طرف، اور مکالمے سے پائیدار شراکت داری کی طرف گامزن ہیں۔