وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت ،اسلام آباد میں سمندر پار پاکستانیوں کے پہلے سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے دفاع، معیشت اور اوورسیز پاکستانیوں کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ، پاکستان کا دفاع مکمل طور پر محفوظ ہاتھوں میں ہے اور کوئی بھی اسے میلی نظر سے دیکھنے کی جرأت نہیں کرسکتا، اگر کوئی ایسی حرکت کرے گا تو اس کی آنکھ پاکستانی عوام کے قدموں تلے روند دی جائے گی۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو قوم کے سفیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ، ایک کروڑ سے زائد اوورسیز پاکستانیوں نے اپنے محنت، دیانت اور لگن سے نہ صرف اپنا، بلکہ اپنے خاندان اور ملک کا نام روشن کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ،ہم ان کے شکر گزار ہیں جو اپنی محنت کی کمائی سے پاکستان کو درپیش زرمبادلہ کے چیلنجز کو کم کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ، حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل سے آگاہ ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ، ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے گا اور سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔
انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف، جنرل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ،وہ نہ صرف ایک سچے پاکستانی، بلکہ ایک بہترین پروفیشنل بھی ہیں، ان کی قیادت میں ملک کا دفاع مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہے۔
شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ، ہم سب جانتے ہیں کہ، دہشت گردوں کو کہاں سے فنڈنگ ملتی ہے اور ان کے پیچھے کون ہے۔ انہوں نے افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ،80 ہزار سے زائد افراد، جن میں عام شہری، ڈاکٹر، سیاستدان، مزدور اور دکاندار شامل ہیں، دہشت گردی کا شکار ہوچکے ہیں۔
انہوں نے ماضی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ، غلط پالیسیوں کی وجہ سے دہشت گردوں کو دوبارہ ملک میں پنپنے کا موقع ملا، خاص طور پر سوات جیسے علاقوں میں انہیں آباد کرنا ایک فاش غلطی تھی۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے نئی سہولیات کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ،اسلام آباد میں ان کے مقدمات کی جلد سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جا چکی ہیں، اور دیگر صوبوں میں بھی یہ عمل جاری ہے۔ انہوں نے ای فائلنگ اور ویڈیو لنک کے ذریعے شواہد ریکارڈ کرنے کی سہولت جلد فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔
انہوں نے بتایا کہ، وفاقی چارٹرڈ یونیورسٹیوں میں اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کے لیے پانچ فیصد کوٹہ مخصوص کیا جا رہا ہے، جب کہ میڈیکل کالجوں میں 15 فیصد کوٹہ مخصوص کرنے سے تقریبا3 ہزار بچوں کو فائدہ ہوگا۔ کاروباری اور بینکاری امور میں اوورسیز پاکستانیوں کو فائلر کے طور پر ٹریٹ کیا جائے گا، تاکہ انہیں ٹیکس میں ریلیف ملے۔
اوورسیز خواتین کے لیے سرکاری ملازمتوں میں عمر کی حد میں 10 سال کی نرمی کا بھی اعلان کیا گیا۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ، ہر سال 14 اگست کو بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 15 اوورسیز پاکستانیوں کو سول ایوارڈ دیے جائیں گے، جن کے نام سفارت خانے، وزارت سیفران اور او پی ایف مل کر تجویز کریں گے۔