پاکستان کے سب سے بڑے شہر،کراچی میں تجاوزات کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا باقاعدہ آغاز کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جو آج سے شروع ہو رہا ہے۔ یہ مہم سب سے پہلے شہر کے ضلع وسطی میں شروع کی جائے گی، جہاں برساتی نالوں اور اہم شاہراہوں سے غیر قانونی تعمیرات اور ڈھانچوں کو ہٹانے کے لیے منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے۔
یہ فیصلہ میئر کراچی، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی سربراہی میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے ہیڈ آفس میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جس میں میونسپل کمشنر، ایس ایم افضل زیدی، ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی، طحہٰ سلیم، فنانشل ایڈوائزر، گلزار ابڑو سمیت دیگر افسران بھی شریک تھے۔
میئر کراچی نے اس موقع پر واضح کیا کہ، تجاوزات کے خلاف یہ کارروائی شہریوں کو روزمرہ کی مشکلات سے نجات دلانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ، فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر قائم غیر قانونی قبضے نہ صرف راہ گیروں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں، بلکہ تاجروں اور مقامی کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ مرتضیٰ وہاب نے زور دیا کہ، عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا اور تجاوزات کے خلاف آپریشن کو غیر جانبدارانہ اور مسلسل انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔
اجلاس کے دوران ضلع وسطی میں آپریشن کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی تیار کی گئی، جس میں تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ میئر نے یہ بھی کہا کہ، قبرستانوں، برساتی نالوں اور سڑکوں پر بننے والی تمام غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے ،تاکہ عوامی جگہوں کا اصل مقصد برقرار رکھا جا سکے۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ، یہ مہم صرف ضلع وسطی تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ بتدریج شہر کے دیگر علاقوں تک بھی پھیلائی جائے گی۔ انہوں نے دکانداروں، کاروباری افراد اور صنعتکاروں سے اپیل کی کہ، وہ فٹ پاتھوں پر تجاوزات قائم کرنے سے گریز کریں اور بلدیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کریں، تاکہ کراچی کو ایک بہتر، صاف اور منظم شہر بنایا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ، شہر کی ترقی اور بہتری صرف سرکاری اداروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ معاشرے کے تمام طبقوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ میئر کراچی نے یقین دہانی کروائی کہ، کے ایم سی شہریوں کو معیاری بلدیاتی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔