ایران کے صوبہ، سیستان بلوچستان میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر ایران نے نہ صرف شدید افسوس اور غم و غصے کا اظہار کیا، بلکہ پاکستانی شہریوں کے قتل کو غیر انسانی اور بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایرانی سفارتخانے نے اس واقعے کو خطے کے امن پر حملہ قرار دیا اور دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا۔
ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ، آٹھ پاکستانیوں کا بہیمانہ قتل ایک انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت عمل ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ،دہشت گردی ایک دیرینہ اور مشترکہ خطرہ ہے جس کا سامنا پورے خطے کو ہے، ایسے عناصر جو بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورکس کے آلہ کار بن چکے ہیں، وہ خطے کے امن اور استحکام کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بیان میں زور دیا گیا کہ، دہشت گردی اور انتہاپسندی جیسے عناصر کا مکمل خاتمہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب خطے کے تمام ممالک سنجیدگی سے مل کر مشترکہ اقدامات کریں۔
یاد رہے کہ، گزشتہ روز سیستان بلوچستان کے علاقے میں دہشت گردوں نے بہیمانہ کارروائی کرتے ہوئے آٹھ پاکستانی مکینکس کو ان کے ورکشاپ کے اندر ہاتھ پیر باندھ کر گولیاں مار دیں تھیں۔ تمام مقتولین کا تعلق جنوبی پنجاب کے علاقوں بہاولپور، خانقاہ شریف، احمد پور شرقیہ اور رنگ پور سے تھا۔
قتل کی اس ہولناک واردات کے بعد لواحقین میں کہرام مچ گیا ہے۔ بہاولپور کے مختلف علاقوں میں غم اور صدمے کی فضا چھائی ہوئی ہے، ہر آنکھ اشکبار ہے اور مقتولین کے گھر ماتم کدے بن چکے ہیں۔ ورثاء نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ، وہ اس واقعے کا نوٹس لے، مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے اور متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کرے۔