صدر شوکت مرزائیوف نے عالمی بینک گروپ کے آپریشنز کی منیجنگ ڈائریکٹر انا بیئرڈے کی سربراہی میں آئے ہوئے وفد کا خیرمقدم کیا۔
ملاقات میں ازبکستان اور عالمی بینک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا، خصوصاً ملک میں جاری اقتصادی اصلاحات کی حکمت عملی میں بینک کے تعاون پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر انا بیئرڈے نے عالمی بینک کے صدر اجے بانگا کی جانب سے ازبک صدر کے لیے نیک خواہشات پہنچائی۔
ملاقات میں حالیہ برسوں میں حاصل ہونے والی مثالی اور نتیجہ خیز شراکت داری پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔
ازبکستان، عالمی بینک کے بڑے شراکت دار ممالک میں سے ایک ہے، جہاں 12 ارب ڈالر سے زائد کے منصوبے جاری ہیں۔ عالمی بینک مالی، مشاورتی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہا ہے تاکہ معیشت اور سماجی شعبوں کی ترجیحی اصلاحات کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔ بینک کی مدد سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے منصوبوں کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے، معیار بہتر بنانے اور نظام کو مؤثر بنانے کے لیے نیا طریقۂ کار اپنایا گیا ہے۔
آئندہ تعاون کے لیے جن شعبوں کو ترجیح دی گئی اُن میں غربت میں کمی، بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا، سیاحت کے شعبے کی ترقی، نجی شعبے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگراموں کی حمایت، نیز سرکاری اداروں کی نجکاری اور اصلاحات شامل ہیں۔
دونوں فریقوں نے ماحولیاتی آلودگی میں کمی، شہری ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری، توانائی کے مؤثر استعمال، سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور ازبکستان کی عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں شمولیت جیسے مشترکہ منصوبوں پر بھی خصوصی توجہ دی۔
علاوہ ازیں، علاقائی سطح پر جاری بڑے منصوبوں کی پیش رفت پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔