امریکی صدر ٹرمپ نے چند دن قبل ایرانی رہب اعلیٰ آیت اللہ علی خامنائی کے نام ایک خط بھیجا تھا جس میں امن کی بات کی گئی مگر اس کے ساتھ دھمکیاں بھی شامل تھیں۔ اس خط کا جواب ایران نے سلطنت عمان کے توسط سے بھیجا ہے۔ اس کا متن تو ابھی معلوم نہیں ہوا، تاہم صدر ٹرمپ کے خط کا متن سامنے آ گیا ہے۔
پیغام کے متن میں لکھا گیا ہےکہ “جناب آیت اللہ خامنہ ای، آپ کی قیادت اور ایران کی عوام کے تہہ دل سےاحترام کے ساتھ یہ خط اپنے تعلقات کے لئے نئے افقوں کو کھولنے کے مقصد کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ ہم نے تعلقات کو گذشتہ دہائیوں میں تنازعات، غلط فہمیوں اور غیر ضروری موقعوں سے بھی خراب کیا ہے۔ دشمنی چھوڑ کر تعاون اور باہمی احترام کا نیا باب کھولنے کا وقت ہے۔ آج ہمارے سامنے بھی ایک تاریخی موقع ہے۔ امریکہ میری قیادت میں ایک ساتھ مل کر امن اور خوشحالی کی طرف ایک بڑا قدم اٹھانے کے لئے تیار ہے، ہم اپنے دونوں ممالک کے عوام کے مفادات کو بااختیار بناسکتے ہیں ، بلکہ ہم مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا میں امن اور استحکام کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔”
خط میں مزید کہا گیا کہ “لیکن میں آپ کو خبردار کرتا ہوں کہ اگر آپ امن کے لیے اس بڑھے ہوئے ہاتھ کو مسترد کرتے ہیں۔ اگر ایرانی حکومت نے دہشت گردوں کی حمایت کا راستہ اختیار کیا اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت جاری رکھی تو ہمارا رد عمل فیصلہ کن اور برق رفتار ہوگا۔ ہم آپ کی حکومت کی طرف سے اپنے عوام یا اپنے اتحادیوں کو دی جانے والی دھمکیوں کے سامنے خاموش نہیں رہیں گے۔”
“امن کمزوری نہیں بلکہ مضبوط کا انتخاب ہے۔ ایرانی عوام ایک عظیم قوم ہیں جو تنہائی، غربت اور مصائب سے دور ایک بہتر مستقبل کے مستحق ہیں۔
اگر آپ مذاکرات کے لیے تیار ہیں تو ہم بھی تیار ہیں، لیکن اگر آپ دنیا کے مطالبات کو نظر انداز کرتے رہے تو تاریخ یاد رکھے گی کہ آپ نے ایک بہت بڑا موقع گنوا دیا۔”
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ کرنے میں ناکام رہا تو “میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ ہم ایران کے ساتھ کسی حل تک پہنچ جائیں۔”