پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی اسٹارلنک کو عارضی این او سی (No Objection Certificate) جاری کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک میں سیٹلائٹ بیسڈ انٹرنیٹ سروسز کے باضابطہ آغاز کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ یہ اعلان وزارت آئی ٹی کی جانب سے کیا گیا۔
اسٹارلنک، جو کہ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے زیرِ ملکیت ہے، لو ارتھ آربٹ (LEO) سیٹلائٹس کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کرنے والی دنیا کی جدید ترین کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ جنوری میں ایلون مسک نے تصدیق کی تھی کہ اسٹارلنک نے پاکستان میں اپنی سروسز شروع کرنے کے لیے درخواست دے رکھی ہے، لیکن حکومتی منظوری کا انتظار کیا جا رہا تھا۔
اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی، شزہ فاطمہ نے بتایا کہ اسٹارلنک کو وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایت پر عارضی رجسٹریشن دی گئی ہے۔
"تمام سیکیورٹی اور ریگولیٹری اداروں کی مشاورت سے اسٹارلنک کو عارضی این او سی جاری کیا گیا ہے، جو کہ پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے باضابطہ آغاز کی جانب ایک اہم قدم ہے،” وفاقی وزیر کا کہنا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان میں انٹرنیٹ سروسز اور آئی ٹی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے اسٹارلنک کی رجسٹریشن ایک اہم سنگِ میل ہے۔
"وزیراعظم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں انٹرنیٹ سسٹم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ جیسی جدید ٹیکنالوجیز اس میں اہم کردار ادا کریں گی،” شزہ فاطمہ نے کہا۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اسٹارلنک کی رجسٹریشن کے لیے حکومت نے جامع حکمت عملی اپنائی، جس میں سائبر کرائم ایجنسی، سیکیورٹی ادارے، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)، اور پاکستان اسپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ (PERB) کو شامل کیا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی اے اسٹارلنک کی فیس اور دیگر لائسنسنگ تقاضے جلد مکمل کرے گا۔
اسٹارلنک کی آمد سے پاکستان میں ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو فروغ ملنے کا امکان ہے، خاص طور پر ان دور دراز علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت محدود ہے۔