صدر شوکت مرزائیوف نے امریکی کانگریس کے ایک وفد کا استقبال کیا۔ ملاقات میں ازبکستان اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری اور کثیر الجہتی تعاون کو مزید فروغ دینے اور گہرا کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کانگریس وومن کیرول ملر نے امریکی صدر، کانگریسی قیادت، اور ازبکستان کاؤکس کے اراکین کی جانب سے صدر مرزائیوف کو نیک تمنائیں اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔
دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی سطح پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ حالیہ برسوں میں سیاسی روابط اور بین الادارتی تبادلے میں تیزی آئی ہے، جبکہ تجارتی اور سرمایہ کاری کے حجم میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور کاروباری تعاون میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
فی الوقت ویبسٹر یونیورسٹی اور امریکن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی تاشقند میں کامیابی سے کام کر رہی ہیں۔
اس کے علاوہ، نقل و حمل، کسٹمز، امیگریشن، ثقافت اور دیگر ترجیحی شعبوں میں بھی باہمی فائدے پر مبنی تعاون جاری ہے۔
کیرول ملر نے “نئے ازبکستان” میں جاری اصلاحاتی حکمت عملی کے نتائج کو سراہا، جن میں معیشت کی جدید کاری، جمہوری اداروں خصوصاً پارلیمنٹ کے استحکام، اور صنفی مساوات کے فروغ جیسے اقدامات شامل ہیں۔
خصوصی توجہ بین الپارلیمانی تعاون کے فروغ پر دی گئی تاکہ معدنیات، صنعت، توانائی، اور زراعت جیسے شعبوں میں اقتصادی و سرمایہ کاری منصوبوں کو تقویت دی جا سکے۔
مزید برآں، ازبکستان اور امریکہ کے مختلف علاقوں کے درمیان شراکت داری کو مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
علاقائی ایجنڈے اور افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔