ازبکستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی و ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ‘فوڈ فیسٹ ازبکستان – 2025’ کا زبردست آغاز ہو گیا جس میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیوف خصوصی طور پر شریک ہوئے۔ 14 مارچ کو اسلام آباد کے معروف سینٹورس مال میں اس فوڈ فیسٹ کی شاندار افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں سفارتی، تجارتی اور کاروباری شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔

اس موقع پر پاکستان میں ازبک سفیر، علی شیر تختیوف کا کہنا تھا کہ یہ ایونٹ نہ صرف ایک تجارتی تقریب ہے، بلکہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہے۔ صدر شوکت مرزایوف کے وژن کے تحت اقتصادی سفارتکاری کو فروغ دینے کے لیے یہ ایک اہم قدم ثابت ہو رہا ہے۔

افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے والے معزز مہمانوں میں پاکستان کی وزارت تجارت کی اعلیٰ قیادت،
30 سے زائد ممالک کے سفیر، جن میں قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان، ترکمانستان، روس، ترکیہ، آذربائیجان، پرتگال، انڈونیشیا، سری لنکا اور دیگر ممالک کے سفارتی نمائندے،اسلام آباد، راولپنڈی اور چکوال کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندے ،معروف کاروباری شخصیات، سرمایہ کار اور میڈیا کے نمائندے شامل تھے۔

25 ازبک فوڈ پروڈیوسرز نے اپنی مصنوعات پیش کیں، جن میں قدرتی جوس، مٹھائیاں اور آرگینک اشیاء شامل تھیں۔
فوڈ فیسٹ کے پہلے ہی دن 60,000 سے زائد افراد نے نمائش کا دورہ کیا۔

تین روزہ فیسٹیول میں ازبک وفد اور پاکستانی ریٹیل نیٹ ورکس کے درمیان مذاکرات ہوں گے، جس کا مقصد طویل مدتی تجارتی تعلقات قائم کرنا ہے۔
یہ نمائش وزیراعظم پاکستان، محمد شہباز شریف کے حالیہ ازبکستان کے دورے کے بعد منعقد ہو رہی ہے، جس کے دوران دوطرفہ تجارتی حجم کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ یہ فیسٹ اس ہدف کی جانب پہلا بڑا قدم ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی شراکت کو مزید مستحکم کرے گا۔
سفیر، علی شیر تختیوف کا کہنا تھا کہ، ازبکستان اور پاکستان کے تعلقات نہ صرف تجارتی شراکت داری پر مبنی ہیں، بلکہ تاریخی، ثقافتی اور روحانی رشتوں سے جُڑے ہوئے ہیں۔ آج، یہ تعلقات اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری اور جدید کاروباری مواقع کے ذریعے مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔