ٹرمپ کا نیٹو اتحادیوں پر دباؤ، اخراجات نہ دینے پر دفاع سے انکار

امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو اتحادیوں کے دفاع پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ، اگر نیٹو ممالک اپنے دفاع کے لیے خاطر خواہ مالی ادائیگی نہیں کریں گے تو امریکا ان کا دفاع نہیں کرے گا۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ،اگر وہ (نیٹو اتحادی) پیسہ نہیں دیں گے تو میں ان کا دفاع نہیں کروں گا، ہرگز نہیں کروں گا۔
ٹرمپ کے مطابق، 2017 سے 2021 کے دوران اپنی صدارت کے دوران بھی انہوں نے یہی مؤقف اپنایا تھا، جس کی وجہ سے کچھ نیٹو ممالک نے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا، تاہم وہ اسے اب بھی ناکافی سمجھتے ہیں۔
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد یورپ اور ایشیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ پہلے ہی یوکرین کی جنگ اور روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث نیٹو ممالک امریکی حمایت کھونے کے خوف میں مبتلا ہیں۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل ،مارک روٹے نے اس حوالے سے کہا کہ،ٹرانس اٹلانٹک تعلقات ہمارے اتحاد کی بنیاد ہیں، اور ہمیں یورپ میں دفاعی اخراجات بڑھانے پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ٹرمپ نے سوال اٹھایا کہ، آیا نیٹو اتحادی کسی بحران کی صورت میں امریکا کی حفاظت کے لیے آگے آئیں گے یا نہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ،آپ کو لگتا ہے کہ، فرانس یا دیگر نیٹو ممالک ہماری مدد کو آئیں گے؟ انہیں ایسا کرنا چاہیے، لیکن مجھے یقین نہیں ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ، انہوں نے ایران کو خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ، اگر وہ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوا تو ممکنہ فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
فاکس بزنس کے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہاکہ، میں نے انہیں (ایران) خط لکھا ہے، اور کہا ہے کہ، مذاکرات کریں، ورنہ فوجی کارروائی ان کے لیے خوفناک ہوگی۔ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
تاہم ایران کے اقوام متحدہ مشن نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ، ابھی تک انہیں ایسا کوئی خط موصول نہیں ہوا۔
2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے (JCPOA) کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا، جس کے بدلے میں اقتصادی پابندیاں ہٹا دی گئی تھیں۔ تاہم، 2018 میں ٹرمپ نے امریکا کو اس معاہدے سے نکال لیا، جس کے بعد ایران نے بھی اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں