پاک افغان طورخم سرحد مسلسل 11 روز سے بند، رات گئے گزرگارہ پر فائرنگ کا تبادلہ

پاکستان اور افغانستان کے سرحدی سیکیورٹی حکام اتوار کے روز طورخم سرحد کھولنے کے حوالے سے کسی حتمی معاہدے پر نہ پہنچ سکے، تاہم دونوں جانب سے اس ہفتے مسئلے کے حل کی امید کا اظہار کیا گیا ہے۔

طورخم میں سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے سرحدی سیکیورٹی حکام نے دوپہر کے قریب زیرو پوائنٹ پر ملاقات کی، جہاں دونوں فریقوں نے اپنے اپنے موقف پیش کیے اور موجودہ سرحدی ڈھانچے میں کسی بھی تبدیلی کے حوالے سے سابقہ پروٹوکولز کا احترام کرنے پر زور دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سرحد کھولنے کے لیے تیار تھا، لیکن افغان حکام نے اپنے اعلیٰ حکام سے معاملے پر بات چیت کے لیے وقت مانگا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کسٹم اور امیگریشن کے محکموں نے بھی سرحد کھلنے کی توقع میں اتوار کو اپنے عملے کو ڈیوٹی پر بلا لیا تھا، لیکن معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں واپس جانا پڑا۔

گزشتہ روز سینکڑوں واپس آنے والے افغان شہری بھی سرحد کے قریب جمع ہو گئے تھے، اس امید کے ساتھ کہ انہیں گھر جانے کی اجازت دی جائے گی، اور وہ سارا دن بے تابی سے انتظار کرتے رہے، لیکن یہ انتظار بے سود رہا۔

ڈان نیوز کے مطابق اس دوران ایک مقامی نوجوان تنظیم نے طورخم اور لنڈی کوتل دونوں مقامات پر پھنسے ہوئے افغان شہریوں کے لیے افطار کا انتظام کیا۔ حکام نے بتایا کہ وہ اب افغان حکام کی جانب سے سرحد کھولنے کے حوالے سے مثبت پیغام کے ساتھ واپس آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

تاہم، رات گئے دونوں جانب سے فائرنگ کا واقعہ بھی سامنے آیا ہے، جو دو گھنٹے تک جاری رہا۔فائرنگ کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں