اب یہ خدشہ نہیں رہا کہ آئی ایم ایف بجلی کی قیمتوں پر ہماری بات نہیں سنے گا: وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، اب یہ خدشہ نہیں رہا کہ، آئی ایم ایف بجلی کی قیمتوں پر ہماری بات نہیں سنے گا۔ انہوں نے بتایا کہ، آئی ایم ایف کی سربراہ نے کہا ہے کہ، پاکستان اگر منصوبہ بنا کر لائے تو وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ، آئی ایم ایف کی سربراہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں پاکستان کی معاشی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا گیا، اور اس بات پر زور دیا گیا کہ، پاکستان اب معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اجلاس میں وزیراعظم نے بتایا کہ، ابوظبی میں آرمی چیف کے ساتھ مل کر یو اے ای کے صدر سے ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور سرمایہ کاری کے منصوبوں پر بات چیت کی گئی۔

 اسی طرح دبئی میں ہونے والے ورلڈ گورنمنٹ سمٹ کے دوران سری لنکا، بوسنیا اور کویت کی اعلیٰ قیادت سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ دبئی میں پاکستانی سرمایہ کاروں سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جہاں انہوں نے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز دیں۔ وزیراعظم نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ، حکومت کاروبار دوست پالیسیوں کو مزید فروغ دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ، دبئی میں ڈی پی ورلڈ کے سی ای او کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی، جہاں کراچی سے پپری تک کے ریلوے منصوبے پر گفتگو ہوئی۔ اس کے علاوہ فلسطین کے حوالے سے بھی دبئی سمٹ میں پاکستان کے مؤقف کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ، اب تک 50 ہزار فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں اور ایسی نسل کشی کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ، جلد وہاں امن قائم ہوگا اور فلسطینی عوام کو اپنی زندگی ازسرِ نو بسانے کے مواقع ملیں گے۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ، پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کی حمایت کی ہے اور آئندہ بھی اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ، سعودی عرب پاکستان کا برادر ملک ہے اور ہم ہر عالمی فورم پر ان کا ساتھ دیتے رہیں گے۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے وفاقی وزرا کی کارکردگی کو بھی سراہا اور کہا کہ، میں نے حالیہ سالوں میں کسی بین الاقوامی ادارے کے سربراہ سے ایسی تعریف نہیں سنی جو آئی ایم ایف کی سربراہ نے کی۔ انہوں نے وزیر خزانہ، وزیر تجارت، وزیر توانائی اور دیگر متعلقہ حکام کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ، اب ہمیں مزید محنت کرنا ہوگی، تاکہ معیشت کو مضبوط کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ، میں نے نائب وزیراعظم کو ہدایت کی ہے کہ، صوبوں کے ساتھ مل کر آئی ایم ایف کے پاس جائیں اور منصوبہ بندی کر کے مذاکرات کریں۔ اب وقت ضائع کرنے کا نہیں، بلکہ عملی اقدامات اٹھانے کا ہے۔ اگر ہمیں اپنی صنعتوں اور معیشت کو مضبوط کرنا ہے تو ہمیں توانائی کی قیمتوں اور ڈیوٹی اسٹرکچر کو بہتر بنانا ہوگا، تاکہ ہم عالمی مارکیٹ کا مقابلہ کر سکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ، ابھی خوش ہونے اور آرام کرنے کا وقت نہیں آیا، بلکہ دن رات محنت کرنی ہوگی، تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں