ازبکستان کا 2027 تک آلو کی پیداوار میں خودکفیل ہونے کا ہدف

ازبکستان نے 2027 تک آلو کی پیداوار میں خود کفیل ہونے کا ہدف مقرر کر لیا ہے ، اگرچہ آلو ملک میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی غذائی اجناس میں شامل ہے اور دو لاکھ 90 ہزار ہیکٹرز زمین پر کاشت کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ ملکی ضروریات کیلئے ناکافی ہے اور ازبک حکومت کو ہر سال ایک بڑی مقدار میں آلو درآمد کرنا پڑتا ہے ۔

زرعی ماہرین کے مطابق ازبکستان میں موجودہ آلو کی اقسام اور پیداوار متوقع معیار پر پورا نہیں اتر رہیں، جس کی وجہ سے حکومت کو اس مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے ۔ ازبکستان میں پوٹیٹو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو آلو کی ایسی اقسام تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جو مقامی آب و ہوا کے مطابق زیادہ پیداوار دے سکے۔ انسٹی ٹیوٹ ان وِٹروتکنیک کے ذریعے ہر سال 30 لاکھ بیج تیار کرے گا۔ جس میں پودے کی اوپری شاخ سے سیمپل لے کر تجربہ گاہ میں مصنوعی ماحول میں افزائش کی جاتی ہے۔

ان اقدامات کے تحت حکومت نے زرعی فنڈ سے اس سال 400ارب سوم (30.85 ملین امریکی ڈالر) آلو کی کاشتکاری کی ترقی کے لیے مختص کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، آئندہ تین سال تک درآمد شدہ بیجوں پر کسٹم ڈیوٹی بھی معاف رہے گی۔ حکام کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ کسانوں کو آلو کی کاشت اور پروسیسنگ کے لیے جدید آلات مہیا کیے جائیں، جنہیں آسان اقساط پر لیز پر دیا جائے گا۔

ازبک حکومت کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وسطی ایشیا میں آلو کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ حال ہی میں قازقستان نے غیر یورپی ممالک بشمول ازبکستان کو آلو کی برآمدات 6ماہ کے لیے معطل کر دی ہیں تاکہ ملکی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ اس فیصلے سے ازبک درآمد کنندگان کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اس کے علاوہ، قازقستان کے پاؤلوڈار ریجن سے 43 ویگنوں پر مشتمل آلو کی کھیپ چند روز قبل ازبک سرحد پر روک لی گئی تاکہ اس کی فائٹو سینیٹری (زرعی صحت) جانچ کی جا سکے۔ طویل انتظار کے باعث آلو 10 دن تک اسٹوریج میں پڑے رہے، جس کی وجہ سے وہ جم کر خراب ہو گئے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں