ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے 4 نومبر کو تاجکستان کی پارلیمان کے ایوانِ بالا، مجلسِ ملی کے چیئرمین رستم امام علی سے ملاقات کی۔ رستم امام علی ان دنوں سرکاری دورے پر ازبکستان میں موجود ہیں۔ ملاقات کے دوران انہوں نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کا نیک تمناؤں اور خیرسگالی کا پیغام بھی ازبک صدر تک پہنچایا۔
ازبک صدارتی دفتر کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوستی، اچھے ہمسایہ تعلقات، اسٹریٹجک شراکت داری اور اتحادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بین الپارلیمانی تعاون کے فروغ کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ملاقات میں بتایا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور مال برداری میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ صنعت، تعمیرات، توانائی، زراعت اور الیکٹریکل انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ مشترکہ سرمایہ کاری کمپنی کی سرگرمیوں کو بھی مؤثر قرار دیا گیا۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے دارالحکومتوں اور مختلف علاقوں کے درمیان براہِ راست روابط بڑھانے کے ساتھ ثقافتی، تعلیمی، انسانی اور سیاحتی تبادلوں کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے معاہدوں اور مشترکہ اقدامات پر عمل درآمد میں پارلیمانوں کے کردار کو مزید مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
ملاقات کے اختتام پر صدر شوکت مرزائیوف نے رستم امام علی کو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری اور اتحاد کو مضبوط بنانے اور بین الپارلیمانی روابط کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے کے اعتراف میں ازبکستان کے اعلیٰ ریاستی اعزاز ’’فداکارانہ خدمات کے لیے‘‘ سے نوازا۔