ازبک صدر شوکت مرزیایوف کی دورۂ بخارا کے دوران حضرت بہاؤالدین نقشبند کے مزار پر حاضری، تاریخی و مذہبی ورثے کے تحفظ پر زور

بخارا: ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے منگل، 3 نومبر کو بخارا کے دورے کے دوران حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند کے مزار پر حاضری دی اور ملک میں امن، خوشحالی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے دعا کی۔ صدر نے اس موقع پر بخارا کے تاریخی، مذہبی اور علمی ورثے کو محفوظ رکھنے، اس پر مزید تحقیق کرنے اور نوجوان نسل کو اپنے اسلاف کی علمی خدمات سے روشناس کرانے کی اہمیت پر زور دیا۔

صدر شوکت مرزیایوف مختلف اقتصادی شعبوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے بخارا پہنچے۔ انہوں نے اپنے دورے کا آغاز ضلع کاگان میں واقع حضرت بہاؤالدین نقشبند کے مزار کی زیارت سے کیا۔ اس موقع پر قرآن پاک کی سورتوں کی تلاوت کی گئی اور ازبکستان کے عوام کے لیے امن و خوشحالی کی دعائیں مانگی گئیں۔

حضرت خواجہ محمد بہاؤالدین نقشبند چودھویں صدی کے ممتاز اسلامی عالم اور تصوف کے معروف سلسلے نقشبندیہ کے بانی تھے۔ ان کے مزار کے گرد صدیوں کے دوران قائم ہونے والا تاریخی تعمیراتی کمپلیکس آج بھی اسلامی دنیا کے اہم اور قابلِ احترام روحانی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مقام نہ صرف ازبکستان بلکہ مختلف ممالک سے آنے والے زائرین کے لیے بھی خصوصی مذہبی اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔

حضرت بہاؤالدین نقشبند کے مزار اور اس سے ملحقہ تاریخی کمپلیکس میں روزانہ اوسطاً 15 ہزار زائرین آتے ہیں۔ یہ مقام یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ’’شاہراہِ ریشم: زرافشان-کاراکم راہداری‘‘ کا حصہ ہے۔ اس تاریخی کمپلیکس کی اہمیت مذہبی عقیدت کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا کی اسلامی تاریخ، فنِ تعمیر اور تہذیبی ورثے سے بھی وابستہ ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران تاریخی کمپلیکس کی اصل تعمیراتی شناخت کو محفوظ رکھنے اور زائرین کے لیے سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ پندرھویں صدی کے تاریخی نقشوں کی بنیاد پر دانیال بی اتالیق مدرسے اور طاقِ میانہ دروازے کی بحالی کا کام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کمپلیکس میں ایک عجائب گھر کی نمائش اور علمی و تحقیقی مرکز بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ اس مقام کے تاریخی اور روحانی ورثے کو مزید بہتر انداز میں محفوظ کیا جا سکے۔

اس موقع پر صدر شوکت مرزیایوف نے کہا کہ بخارا صدیوں سے اسلامی علوم، علمی ترقی اور روحانی و فکری روایت کا اہم مرکز رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس خطے کے عظیم علمی اور روحانی ورثے کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اور اس سے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت میں مؤثر انداز میں استفادہ کیا جائے۔ ان کے مطابق نئی نسل کو اپنے تاریخی ورثے سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ علم، تحقیق اور فکری شعور کی جانب راغب کرنا بھی ضروری ہے۔

صدر مرزیایوف نے کہا کہ اسلامی تہذیب کا مرکز، امام بخاری کے نام سے منسوب کمپلیکس اور امام ماتریدی کمپلیکس جیسے منصوبے ایک ہی بنیادی مقصد کے تحت قائم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ان تمام منصوبوں کا مقصد عظیم اسلاف کی علمی میراث کو آگے بڑھانا اور نوجوان نسل کی تربیت اس انداز میں کرنا ہے کہ وہ اپنے تاریخی اور علمی ورثے کو سمجھ سکے۔ ازبک صدر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کے اسلامی اور تہذیبی سرمائے کے تحفظ کے ساتھ اسے تعلیم و تحقیق کے فروغ کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں