برطانیہ کا مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے 80 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

برطانوی حکومت نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے پیدا ہونے والے صحت، سائبر سکیورٹی اور قومی سلامتی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تقریباً 60 کروڑ پاؤنڈ، یعنی 80 کروڑ امریکی ڈالر کی فنڈنگ کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت حیاتیاتی خطرات کی نشاندہی، اہم تنصیبات کے تحفظ، جدید تحقیق اور مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حکومت اس فنڈنگ کا ایک بڑا حصہ حیاتیاتی تحفظ کے نئے منصوبے پر خرچ کرے گی۔ اس کے تحت 10 کروڑ پاؤنڈ کی لاگت سے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک جدید لیبارٹری قائم کی جائے گی، جو حیاتیاتی خطرات کی شناخت میں مدد دے گی۔ مزید ساڑھے چھ کروڑ پاؤنڈ بیماری پیدا کرنے والے جراثیم اور دیگر خطرناک عوامل کے خلاف حفاظتی اقدامات اور مؤثر طریقے تیار کرنے پر خرچ کیے جائیں گے۔

برطانیہ کے وزیر برائے مصنوعی ذہانت کنشک نارائن نے کہا کہ حکومت کا مقصد نئی اے آئی بائیو سکیورٹی لیبارٹری کو عالمی سطح کا ایک اہم تحقیقی ادارہ بنانا ہے۔ ان کے مطابق اس ادارے میں دنیا بھر کے ممتاز سائنسی ماہرین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے گا تاکہ مستقبل میں سامنے آنے والے حیاتیاتی خطرات سے لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا سکے۔

اس منصوبے میں دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی تعاون کریں گی۔ اوپن اے آئی اور اینتھروپک حیاتیاتی تحفظ کے منصوبے کے لیے 20 کروڑ پاؤنڈ تک کے اے آئی ماڈلز کے استعمال کے کریڈٹس فراہم کریں گی۔ یہ براہِ راست نقد فنڈنگ نہیں ہوگی بلکہ ان کمپنیوں کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اور متعلقہ خدمات استعمال کرنے کی سہولت ہوگی۔ اس کے علاوہ گوگل ڈیپ مائنڈ اور لندن کی کمپنی بیس کیمپ ریسرچ بھی منصوبے میں تکنیکی اور تحقیقی تعاون فراہم کریں گی۔

حکومت نے ملک میں مصنوعی ذہانت کے تحفظ کے موجودہ ادارے، اے آئی سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ، کے لیے مزید 12 کروڑ پاؤنڈ مختص کیے ہیں۔ اس کے علاوہ 13 کروڑ پاؤنڈ سائبر سکیورٹی کے نئے منصوبوں پر خرچ ہوں گے، جن کا مقصد اہم قومی تنصیبات، ڈیجیٹل نظام اور معیشت کو سائبر حملوں سے محفوظ بنانا ہے۔ ان منصوبوں میں نیشنل سائبر شیلڈ اور نیشنل ایکسپوژر اینڈ ریئل ٹائم ولنریبلٹی سینٹر شامل ہیں۔

برطانوی حکومت چھ کروڑ پاؤنڈ ایسے مقامی کاروباری اداروں میں سرمایہ کاری کے لیے مختص کرے گی جو مصنوعی ذہانت کو روبوٹکس، خودکار نظاموں اور صنعتی پیداوار میں استعمال کر رہے ہیں۔ مزید چھ کروڑ پاؤنڈ اے آئی تحقیق اور سرکاری معاہدوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح دو کروڑ 30 لاکھ پاؤنڈ مصنوعی ذہانت کے معاشی اثرات پر تحقیق، ایک کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ جدید چپس کے ڈیزائن کی تربیت اور ایک کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ عوامی مسائل کے لیے اے آئی پر مبنی حل تیار کرنے کے انعامی پروگرام پر خرچ ہوں گے، جس کی ابتدائی توجہ صحت کے شعبے پر ہوگی۔

حکومتی منصوبے کے تحت علاقائی سطح پر مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے مقامی انتظامیہ کو تین کروڑ پاؤنڈ فراہم کیے جائیں گے، جبکہ برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر کو مانچسٹر میں اپنی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے اضافی فنڈز بھی ملیں گے۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد مصنوعی ذہانت سے متعلق خطرات کم کرنے کے ساتھ ملکی تحقیق، صنعت اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو مضبوط بنانا بھی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں