جیو کے 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کے شیئرز کی ریکارڈ طلب کے بعد مکیش امبانی کے 34 سالہ بیٹے آکاش امبانی نے کمپنی کی قیادت سنبھال لی

بھارت کے امیر ترین کاروباری شخصیات میں شمار ہونے والے مکیش امبانی کے بڑے بیٹے آکاش امبانی جیو پلیٹ فارمز کے 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کے تاریخی آئی پی او کے بعد توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ کمپنی کے شیئرز کی عوامی فروخت کے آغاز کے صرف دو گھنٹوں کے اندر سرمایہ کاروں کی جانب سے پیش کیے گئے تمام شیئرز کے برابر درخواستیں موصول ہو گئیں۔ اس پیش رفت کے ساتھ 34 سالہ آکاش امبانی کمپنی کے مستقبل کے کاروباری منصوبوں اور عالمی سرمایہ کاروں سے رابطوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ جیو پلیٹ فارمز کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں، جبکہ ان کے والد مکیش امبانی بدستور کمپنی کے چیئرمین ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، آکاش امبانی نے گزشتہ ہفتے ممبئی میں جیو کے آئی پی او سے متعلق تقریب میں سرمایہ کاروں کو کمپنی کی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ جیو کے صارفین کی تعداد 53 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ ان کی جڑواں بہن بھی تقریب میں شریک تھیں، تاہم مکیش امبانی موجود نہیں تھے۔ آکاش کو 2022 میں جیو کے ٹیلی کام کاروبار کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا، جسے امبانی خاندان کے کاروبار کی آئندہ نسل کو منتقلی کے عمل کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

رائٹرز سے گفتگو کرنے والے کاروباری شخصیات کے مطابق، آکاش امبانی کمپنی کی اہم حکمتِ عملی اور بڑے فیصلوں میں حصہ لیتے ہیں، تاہم روزمرہ انتظامی معاملات میں غیر ضروری مداخلت نہیں کرتے۔ وہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا سمیت اہم سرمایہ کاروں سے براہِ راست رابطے میں رہتے ہیں۔ میٹا جیو کے تقریباً 10 فیصد شیئرز کی مالک ہے، جبکہ 2020 میں گوگل اور دیگر بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے بھی کمپنی میں بڑی سرمایہ کاری کی تھی۔ آکاش امبانی امریکہ کی براؤن یونیورسٹی سے معاشیات میں گریجویشن کر چکے ہیں اور کمپنی کی ٹیکنالوجی سے متعلق حکمتِ عملی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

جیو نے 2016 میں بھارتی ٹیلی کام مارکیٹ میں قدم رکھا تھا اور کم قیمت انٹرنیٹ اور مفت وائس کالز کے ذریعے تیزی سے صارفین کی بڑی تعداد حاصل کی۔ آج کمپنی کے 50 کروڑ سے زائد صارفین ہیں اور وہ بھارت کے سب سے بڑے ٹیلی کام اداروں میں شمار ہوتی ہے۔ تاہم کمپنی اب اپنی شناخت صرف موبائل نیٹ ورک تک محدود نہیں رکھنا چاہتی۔ آکاش امبانی کے مطابق جیو ایک ڈیجیٹل سروسز کمپنی ہے، جو فور جی اور فائیو جی کے بعد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی اپنی خدمات بڑھا رہی ہے۔ کمپنی کا منصوبہ ہے کہ صارفین کو بھارت کی 12 زبانوں میں اے آئی کی مدد سے فون کالز کا خلاصہ اور گفتگو کو تحریر میں تبدیل کرنے جیسی سہولیات فراہم کی جائیں۔

دوسری جانب جیو کے آئی پی او میں چھوٹے سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی نمایاں رہی ہے۔ جمعرات تک عام سرمایہ کاروں کے لیے مختص شیئرز کی مکمل طلب موصول ہو چکی تھی، جبکہ ملازمین اور ریلائنس کے موجودہ شیئر ہولڈرز کے لیے مخصوص حصوں میں بھی پیش کیے گئے شیئرز سے زیادہ درخواستیں سامنے آئیں۔ ماہرین اس پیش رفت کو امبانی خاندان کے کاروبار میں نئی نسل کے بڑھتے ہوئے کردار کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ مکیش امبانی اب بھی جیو پلیٹ فارمز کے چیئرمین ہیں، تاہم کمپنی کے سرمایہ کاروں سے رابطوں، ڈیجیٹل منصوبوں اور مستقبل کی حکمتِ عملی میں آکاش امبانی ایک مرکزی شخصیت بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں