انڈونیشیا کے جزیرے بانگکا میں ایک ایسا نایاب جانور دوبارہ دریافت ہوا ہے جس کی موجودگی کا آخری مستند سائنسی ریکارڈ تقریباً ایک صدی پرانا تھا۔ بڑی آنکھوں اور سرخی مائل بھورے بالوں والا یہ جانور ’’بانگکا سلو لورس‘‘ کہلاتا ہے اور دنیا کے ان چند ممالیہ جانوروں میں شامل ہے جو زہریلے ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں نے اس نسل کے معدوم ہو جانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا، تاہم نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ جانور اب بھی انڈونیشیا کے مختلف جنگلات میں موجود ہے۔
نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انڈونیشیا کی جنگلی حیات کے تحفظ کی تنظیم الوبی وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر نے 2015 سے 2025 کے دوران بانگکا جزیرے کے مختلف علاقوں سے اس نسل کے 90 سے زائد جانوروں کی موجودگی ریکارڈ کی۔ ان میں سے کئی جانور گھروں، باغات، کھیتوں اور سڑکوں کے قریب ملے، جبکہ بعض بجلی کی تاروں سے زخمی ہوئے تھے۔ تنظیم نے علاج اور بحالی کے بعد 86 جانوروں کو دوبارہ ان کے قدرتی ماحول میں چھوڑ دیا۔
بانگکا سلو لورس ایک چھوٹا ممالیہ جانور ہے جو زیادہ تر رات کے وقت سرگرم رہتا ہے اور درختوں پر نہایت آہستگی اور احتیاط سے حرکت کرتا ہے۔ اس کا سائنسی نام Nycticebus bancanus ہے۔ اس کی بڑی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے میں مدد دیتی ہیں، جبکہ اس کی خوراک میں کیڑے مکوڑے، درختوں سے نکلنے والا گوند اور پھولوں کا رس شامل ہو سکتے ہیں۔ اس جانور کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کا زہریلا کاٹنا ہے۔ اس کی کہنیوں کے قریب مخصوص غدود سے ایک مادہ خارج ہوتا ہے، جسے یہ لعابِ دہن میں ملا کر کاٹنے کے ذریعے دوسرے جانوروں تک منتقل کر سکتا ہے۔ انسانوں میں اس کے کاٹنے سے شدید الرجی اور بعض صورتوں میں جان لیوا ردِعمل بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
محققین کے مطابق، بانگکا سلو لورس کا آخری تاریخی سائنسی ریکارڈ 1930 سے 1932 کے درمیان سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد کئی دہائیوں تک اس نسل کی موجودگی کے قابلِ اعتماد شواہد دستیاب نہیں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جنگلی حیات کے تحفظ کی عالمی تنظیم آئی یو سی این نے 2020 میں اسے انتہائی خطرے سے دوچار اور ممکنہ طور پر معدوم قرار دیا تھا۔ آسٹریا کے محقق ٹیمون گلاو کے مطابق، یہ حیران کن ہے کہ اتنے منفرد جانور پر تقریباً ایک صدی تک بہت کم سائنسی توجہ دی گئی۔ نئی دریافت سے امید پیدا ہوئی ہے کہ دنیا میں معدوم سمجھی جانے والی بعض دوسری نسلیں بھی اب تک زندہ ہو سکتی ہیں۔
تاہم اس نایاب جانور کی دوبارہ دریافت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی نسل اب محفوظ ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق، بانگکا جزیرے میں ٹن کی کان کنی اور پام آئل کے باغات کے لیے جنگلات کی کٹائی نے اس کے قدرتی مسکن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ محققین نے باقی ماندہ جنگلات کے فوری تحفظ اور جانوروں کی حقیقی تعداد معلوم کرنے کے لیے مزید سائنسی سروے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، بانگکا سلو لورس کی بقا یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے قدرتی ماحول کو مزید تباہی سے بچایا جائے، کیونکہ اس نایاب نسل کا خاتمہ حیاتیاتی تنوع کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔