آسٹریا اور چین کے سائنس دانوں نے دنیا کی پہلی دو فعال نیوکلیئر گھڑیاں تیار کر لی ہیں، جنہیں وقت کی انتہائی درست پیمائش کی ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ جدید گھڑیاں مستقبل میں موجودہ ایٹمی گھڑیوں سے بھی زیادہ درست وقت بتانے کی صلاحیت رکھ سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس ٹیکنالوجی سے سیٹلائٹ نیویگیشن، مواصلاتی نظام اور بنیادی طبیعیات کی تحقیق میں نئی پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، آسٹریا کے دارالحکومت ویانا اور چین کے شہر بیجنگ میں سائنس دانوں کی دو الگ ٹیموں نے آزادانہ طور پر یہ گھڑیاں تیار کی ہیں۔ دونوں ٹیموں کی تحقیقات 7 اکتوبر 2026 کو معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ تقریباً 50 برس سے سائنس دان ایسی گھڑی بنانے کی کوشش کر رہے تھے، جو وقت کی پیمائش کے لیے ایٹم کے مرکزے کو استعمال کر سکے۔
نیوکلیئر گھڑی کا مطلب یہ نہیں کہ یہ جوہری توانائی سے چلتی ہے۔ دراصل یہ گھڑی لیزر کی مدد سے ایٹم کے مرکزے میں ہونے والی توانائی کی تبدیلیوں کو ناپ کر وقت کا حساب لگاتی ہے۔ دونوں تحقیقی ٹیموں نے اس مقصد کے لیے تھوریم 229 نامی عنصر کی ایک مخصوص قسم استعمال کی، جسے کیلشیم فلورائیڈ کے کرسٹل میں محفوظ کیا گیا۔ روایتی ایٹمی گھڑیاں ایٹم کے گرد موجود الیکٹرانوں میں توانائی کی تبدیلیوں کی بنیاد پر وقت ناپتی ہیں، جبکہ نئی گھڑیاں ایٹم کے مرکزے کو استعمال کرتی ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق، ایٹم کا مرکزہ اس کے گرد موجود الیکٹرانوں کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہوتا ہے، اس لیے مستقبل میں اس کی مدد سے وقت کی پیمائش مزید درست بنائی جا سکتی ہے۔ اس وقت دنیا کی بہترین ایٹمی گھڑیاں اتنی درست ہیں کہ اربوں سال میں بھی ان کے وقت میں صرف ایک سیکنڈ کا فرق آ سکتا ہے۔ تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ نئی نیوکلیئر گھڑیاں ابھی ان روایتی گھڑیوں سے بہتر کارکردگی نہیں دکھا رہیں اور انہیں مزید ترقی دینے کی ضرورت ہے۔
آسٹریا کی ویانا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ماہر طبیعیات تھورسٹن شُم کے مطابق، نیوکلیئر گھڑیوں کو مستقبل میں سیٹلائٹ کے ذریعے راستوں کی نشاندہی، معلومات کی منتقلی میں وقت کی ہم آہنگی اور انتہائی درست سائنسی پیمائش کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چین کی تسنگھوا یونیورسٹی کے محقق شِی چیان ڈِنگ نے بتایا کہ دونوں ٹیموں نے مختلف سائنسی طریقے اختیار کیے، لیکن ایک ہی وقت میں کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق، یہ بات اس ٹیکنالوجی کی عملی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔
نئی گھڑیوں کی مدد سے کائنات کے بعض پیچیدہ سائنسی رازوں پر تحقیق کے امکانات بھی پیدا ہوئے ہیں۔ ویانا کی ٹیم نے اپنی گھڑی کے ذریعے ڈارک میٹر، یعنی تاریک مادے، کی تلاش سے متعلق ایک تجربہ بھی کیا۔ اگرچہ اس تجربے میں تاریک مادے کا سراغ نہیں ملا، لیکن گھڑی نے موجودہ بہترین ایٹمی گھڑیوں کے برابر درستگی کے ساتھ تجرباتی پیمائش کی۔ ماہرین کو امید ہے کہ مزید تحقیق کے بعد نیوکلیئر گھڑیاں پہلے سے زیادہ درست، چھوٹی اور آسانی سے استعمال ہونے والی بن سکیں گی۔