دنیا کے سب سے عمر رسیدہ معلوم زندہ خشکی کے جانور، ’جوناتھن‘ نامی دیوقامت کچھوے کی عمر تقریباً 194 سال ہو چکی ہے۔ سائنس دانوں نے اس کی غیر معمولی طویل زندگی کے اسباب جاننے کے لیے اس کے ڈی این اے اور خلیوں پر تحقیق کی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نئی تحقیق میں ایسے جینیاتی اور حیاتیاتی عوامل کی نشان دہی ہوئی ہے جو جوناتھن کے جسم کو بڑھاپے کے باوجود اہم خلیاتی افعال برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
جوناتھن بحرِ اوقیانوس کے جنوبی حصے میں واقع برطانوی جزیرے سینٹ ہیلینا پر رہتا ہے۔ اسے 1882 میں سیشلز کے علاقے سے اس جزیرے پر لایا گیا تھا اور اس وقت وہ مکمل طور پر بالغ تھا۔ ماہرین کے مطابق اس کی پیدائش تقریباً 1832 میں ہوئی ہوگی، تاہم اس کی درست تاریخِ پیدائش معلوم نہیں۔ جوناتھن اس وقت جزیرے کے گورنر کی سرکاری رہائش گاہ، پلانٹیشن ہاؤس کے احاطے میں رہتا ہے۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز نے اسے دنیا کے سب سے عمر رسیدہ معلوم زندہ خشکی کے جانور اور تاریخ کے سب سے عمر رسیدہ ریکارڈ شدہ کچھوے کا اعزاز دے رکھا ہے۔
سائنسی جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی تحقیق کے دوران ماہرین نے جوناتھن کے جینوم، یعنی اس کی مکمل جینیاتی معلومات، اور ایپی جینوم کا تجزیہ کیا۔ ایپی جینوم ایسے کیمیائی نشانات پر مشتمل ہوتا ہے جو یہ طے کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں کہ جسم میں کون سے جین فعال ہوں گے اور کون سے غیر فعال۔ محققین نے جوناتھن کے نتائج کا اسی قسم کے چار دیگر کچھوؤں سے موازنہ کیا۔ تحقیق میں ڈی این اے کی مرمت، خلیوں میں توانائی پیدا کرنے والے نظام، انسولین کے افعال اور کروموسوم کے حفاظتی حصوں سے متعلق ایسے جینیاتی فرق سامنے آئے جو طویل زندگی میں ممکنہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔
محققین کو جوناتھن میں 287 ایسے جین ملے جن میں منفرد جینیاتی تبدیلیاں موجود تھیں۔ ان میں بعض تبدیلیاں ڈی این اے کی مرمت اور رسولیوں کی روک تھام سے متعلق تھیں۔ سائنس دانوں نے یہ بھی دیکھا کہ عمر بڑھنے کے باوجود جوناتھن کے جینیاتی نظام کے بعض حصوں میں خلیاتی سرگرمیوں کو منظم رکھنے والے نشانات نسبتاً بہتر حالت میں موجود تھے۔ تحقیق کے شریک مصنف بینجمن ویسوِل کے مطابق یہ نتائج غیر معمولی طویل زندگی کے ممکنہ حیاتیاتی عوامل کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں، تاہم ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہی تبدیلیاں جوناتھن کی عمر کا بنیادی سبب ہیں۔
جوناتھن کی دیکھ بھال کرنے والے جانوروں کے ڈاکٹر جو ہولنز کے مطابق بڑھاپے کے باعث اس کی بینائی تقریباً ختم ہو چکی ہے اور سونگھنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے، لیکن اس کی بھوک اب بھی اچھی ہے۔ خصوصی خوراک اور مسلسل نگہداشت کے ذریعے اس کی صحت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جوناتھن کی خوراک، ماحول اور انفرادی جسمانی خصوصیات بھی اس کی طویل زندگی میں اہم ہوسکتی ہیں۔ اگرچہ اس تحقیق سے انسانوں میں بڑھاپے کے عمل کو سمجھنے کے نئے مواقع سامنے آئے ہیں، لیکن سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ صرف ایک غیر معمولی عمر رسیدہ کچھوے کے مطالعے سے انسانوں کی عمر بڑھانے کا کوئی حتمی طریقہ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔