خوشاب میں واقع ہندو شاہی دور کے قدیم مندر، جہاں کبھی قلعہ بند آبادی موجود تھی؛ صدیوں بعد بھی آثار خطے کے مذہبی، سیاسی اور تعمیراتی ماضی کی گواہی دے رہے ہیں
پنجاب کے ضلع خوشاب میں وادیٔ سون سکیسر اور کوہِ نمک کی خاموش پہاڑیوں کے درمیان ایک ایسا تاریخی مقام موجود ہے جہاں تقریباً ایک ہزار سال پرانی عمارتیں آج بھی وقت کا مقابلہ کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ امب شریف کے قدیم مندر ہیں، جو بظاہر پتھر اور اینٹ سے بنی چند شکستہ عمارتیں نظر آتے ہیں، مگر آثارِ قدیمہ کی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ مقام کبھی محض چند مندروں تک محدود نہیں تھا۔ یہاں ایک قلعہ بند آبادی، دفاعی تعمیرات اور مذہبی عمارتیں موجود تھیں اور یہ علاقہ اپنے دور میں ایک اہم انسانی مرکز تھا۔
پاکستان کے وفاقی محکمۂ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کے ریکارڈ کے مطابق امب کا تاریخی مقام سکیسر کی چوٹی سے تقریباً آٹھ کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ اس مقام کو عمومی طور پر ساتویں سے گیارہویں صدی کے ابتدائی عرصے سے منسلک کیا جاتا ہے، جبکہ آج موجود نمایاں مندروں کی تعمیر بالخصوص نویں اور دسویں صدی عیسوی کے ہندو شاہی دور سے منسوب کی جاتی ہے۔ جدید آثارِ قدیمہ کی بعض تحقیقات سے یہ اشارے بھی ملتے ہیں کہ اس مقام پر انسانی سرگرمی اور تعمیرات کا سلسلہ ممکنہ طور پر چوتھی یا پانچویں صدی عیسوی تک جاتا ہو۔ اس اعتبار سے آج دکھائی دینے والے مندر امب کی طویل تاریخ کا صرف ایک باقی رہ جانے والا حصہ ہیں۔
نویں سے گیارہویں صدی کے دوران موجودہ پاکستان اور افغانستان کے شمال مغربی علاقوں میں شاہی حکمران ایک اہم سیاسی طاقت تھے۔ ان کے آخری دور کو تاریخی مطالعات میں عموماً ہندو شاہی عہد کہا جاتا ہے۔ اسی زمانے میں کوہِ نمک اور دریائے سندھ کے گرد متعدد مذہبی اور دفاعی مراکز موجود تھے۔ امب ان میں تنہا نہیں تھا؛ نندنہ، بلوٹ اور کافرکوٹ جیسے مقامات پر بھی قلعوں کے ساتھ قدیم مندروں کے آثار ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین ان مقامات کو صرف عبادت گاہوں کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ ان کی دفاعی، انتظامی اور سیاسی اہمیت کو بھی زیرِ غور لاتے ہیں۔
امب کے بارے میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ان مندروں کو کس حکمران نے تعمیر کروایا تھا۔ دستیاب تحقیق اس کا کوئی حتمی جواب فراہم نہیں کرتی، کیونکہ اب تک ایسا واضح کتبہ دریافت نہیں ہوا جس سے کسی مخصوص بادشاہ یا حکمران کا نام یقینی طور پر ان تعمیرات سے جوڑا جاسکے۔ آثارِ قدیمہ کی تحقیق میں یہی احتیاط اہم ہوتی ہے کہ جہاں ثبوت موجود نہ ہوں وہاں روایت یا اندازے کو تاریخی حقیقت کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔
آج امب شریف پہنچنے والے سیاح کو بنیادی طور پر دو قدیم مندروں کے نمایاں آثار دکھائی دیتے ہیں۔ ایک مندر نسبتاً بلند اور زیادہ محفوظ حالت میں ہے جبکہ دوسرا چھوٹا ہے۔ تاہم انیسویں صدی کے معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ سر الیگزینڈر کننگھم کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کبھی تین مندر موجود تھے۔ انہوں نے قلعے کے اندر ایک بڑے اور دو نسبتاً چھوٹے مندروں کا ذکر کیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ تیسرے مندر کے نمایاں آثار تقریباً ختم ہوگئے، لیکن تاریخی دستاویزات نے اس کی موجودگی کا ذکر محفوظ رکھا۔
امب شریف کا مرکزی مندر آج بھی اپنی جسامت کے باعث دور سے نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ سرکاری آثارِ قدیمہ کے ریکارڈ کے مطابق یہ ایک بڑے چبوترے پر قائم ہے جس کی لمبائی تقریباً 27.4 میٹر، چوڑائی 19 میٹر اور بلندی 1.8 میٹر ہے، جبکہ چبوترے سمیت عمارت کی مجموعی بلندی تقریباً 18.2 میٹر بنتی ہے۔ موجودہ دور میں شاید اٹھارہ میٹر بلند عمارت غیر معمولی محسوس نہ ہو، لیکن تقریباً ایک ہزار سال پہلے کوہِ نمک کے پہاڑی علاقے میں اتنی بڑی مذہبی عمارت تعمیر کرنا اس دور کی منصوبہ بندی، وسائل اور فنی مہارت کی واضح مثال ہے۔
امب کے مندروں کی اہمیت صرف ان کی قدامت تک محدود نہیں بلکہ ان کا طرزِ تعمیر بھی ماہرین کے لیے خصوصی دلچسپی رکھتا ہے۔ سرکاری آثارِ قدیمہ کے ریکارڈ میں ان کی بعض تعمیراتی خصوصیات اور آرائش میں کشمیری اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بعد کی علمی تحقیق نے اس تصویر کو مزید وسیع کرتے ہوئے یہاں گندھارا اور شمالی ہندوستان کی ناگرا مندر سازی کے عناصر کی موجودگی کی طرف بھی توجہ دلائی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوہِ نمک کے معمار محض کسی ایک خطے کے طرزِ تعمیر کی نقل نہیں کررہے تھے بلکہ مختلف تعمیراتی روایات کو مقامی انداز میں یکجا کرکے ایک الگ شناخت تشکیل دے رہے تھے۔
مرکزی مندر کی ایک دلچسپ تعمیراتی خصوصیت اس کی موٹی دیواروں کے اندر بنائے گئے تنگ راستے اور سیڑھیاں ہیں، جن کے ذریعے عمارت کے بالائی حصے تک رسائی حاصل کی جاتی تھی۔ ایسی خصوصیات نندنہ اور بلوٹ کے بعض مندروں میں بھی ملتی ہیں۔ اس مماثلت سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کوہِ نمک اور اس سے ملحق علاقوں میں اس دور کے معماروں کے درمیان ایک مشترکہ تعمیراتی روایت موجود تھی۔
امب شریف کے بارے میں بعض عام تحریروں میں ان مندروں کو براہِ راست شیو سے منسوب کیا جاتا ہے، تاہم تحقیقی سطح پر اس دعوے میں احتیاط ضروری ہے۔ شاہی دور کے دوسرے مقامات سے ملنے والے مذہبی اور مجسماتی شواہد کی بنیاد پر بعض ماہرین کا خیال ہے کہ کوہِ نمک کے متعدد مندر ممکنہ طور پر شیو مت سے وابستہ رہے ہوں گے، لیکن امب سے اب تک ایسا واضح کتبہ، تحریر یا محفوظ مذہبی علامت سامنے نہیں آئی جس کی بنیاد پر یقین سے کہا جاسکے کہ یہاں کس مخصوص دیوتا کی عبادت کی جاتی تھی۔ اسی لیے تحقیقی اعتبار سے انہیں ہندو شاہی عہد کے ہندو مندر کہنا زیادہ درست اور محتاط تعبیر ہے۔
امب شریف کے آثار کو جدید آثارِ قدیمہ کے ریکارڈ میں نمایاں کرنے والوں میں سر الیگزینڈر کننگھم کا نام اہم ہے۔ انہوں نے 1878-79ء کے دوران پنجاب کے آثارِ قدیمہ کے سروے میں امب کا بھی جائزہ لیا اور اپنے مشاہدات کو بعد میں Report of a Tour in the Punjab in 1878–79 میں شامل کیا۔ ان کی دستاویزات آج اس لیے بھی اہم ہیں کہ انہوں نے امب کو ایسے دور میں دیکھا جب موجودہ وقت کے مقابلے میں یہاں زیادہ آثار باقی تھے۔ بیسویں صدی میں بھی اس مقام کے تحفظ پر توجہ دی گئی اور 1920 کی دہائی میں یہاں مرمت اور تحفظ کا کام کیا گیا۔
دسویں اور گیارہویں صدی کے دوران شمال مغربی جنوبی ایشیا کی سیاسی صورتِ حال تیزی سے تبدیل ہوئی۔ غزنوی طاقت کے پھیلاؤ کے ساتھ شاہی حکمرانوں کا اقتدار سکڑتا گیا اور بالآخر وہ سیاسی نظام ختم ہوگیا جس کے عہد میں امب اور اس جیسے کئی مراکز پھلے پھولے تھے۔ اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ان پرانے مراکز کی اہمیت بھی رفتہ رفتہ کم ہوتی گئی۔ صدیاں گزرتی رہیں، عمارتیں ٹوٹتی رہیں، بعض حصے زمین میں دفن ہوگئے اور کچھ موسم اور وقت کی نذر ہوگئے، مگر امب کا مرکزی مندر پھر بھی بڑی حد تک باقی رہا۔
یہ مقام آج مقامی طور پر امب شریف کے نام سے جانا جاتا ہے، جبکہ پرانے آثارِ قدیمہ کے علمی ریکارڈ میں اسے عموماً ’’امب‘‘ کہا گیا ہے۔ پاکستان کے وفاقی محکمۂ آثارِ قدیمہ کے مطابق امب کے مندر نوادرات ایکٹ 1975ء کے تحت محفوظ آثارِ قدیمہ میں شامل ہیں۔ تاہم کسی تاریخی مقام کو قانون کے تحت محفوظ قرار دینا اور اسے نئی نسل کی اجتماعی یادداشت میں محفوظ رکھنا دو مختلف معاملات ہیں۔ کسی تاریخی ورثے کا حقیقی تحفظ اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ عمارتیں کیا ہیں، کب تعمیر ہوئیں اور اس خطے کی تاریخ میں ان کا مقام کیا ہے۔
امب شریف کی اہمیت کو صرف ایک مذہبی مقام کی تاریخ تک محدود کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ موجودہ پاکستان کی سرزمین کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ موہنجو داڑو کی وادیٔ سندھ تہذیب، ٹیکسلا اور گندھارا کا بدھ ورثہ، کٹاس راج کے مندر، کوہِ نمک کے ہندو شاہی آثار، بعد کی اسلامی سلطنتوں اور مغلیہ دور کی عمارتیں—یہ سب اسی سرزمین کی مختلف تاریخی تہیں ہیں۔ ہر دور نے یہاں اپنی کوئی نہ کوئی نشانی چھوڑی اور یہی تمام نشانیاں مل کر اس خطے کی مکمل تاریخی تصویر تشکیل دیتی ہیں۔
آج امب شریف ایک آباد شاہی مرکز نہیں رہا۔ نہ یہاں وہ حکمران موجود ہیں، نہ وہ معمار اور نہ وہ لوگ جو تقریباً ایک ہزار سال پہلے ان پہاڑوں میں آباد تھے۔ لیکن ان کے چھوڑے ہوئے پتھر آج بھی موجود ہیں۔ وہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہاں کبھی ایک معاشرہ آباد تھا، جس کے اپنے عقائد، اپنی سیاست، اپنا فن اور عمارتیں تعمیر کرنے کا اپنا تصور تھا۔
تقریباً ایک ہزار سال میں حکمران بدل گئے، سلطنتیں ختم ہوگئیں، سیاسی نقشے اور سرحدیں تبدیل ہوگئیں، لیکن کوہِ نمک کی ایک خاموش پہاڑی پر امب کا قدیم مندر آج بھی کھڑا ہے۔ شاید امب شریف کا سب سے بڑا تاریخی پیغام بھی یہی ہے کہ تاریخ کبھی مکمل طور پر خاموش نہیں ہوتی؛ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اس کے پتھروں کی زبان پڑھنا سیکھیں۔