خیبر پختونخوا کے علاقے جندیال میں قدیم تاریخی عمارت کے آثار دریافت، گندھارا تہذیب سے متعلق نئی تحقیق کا آغاز

خیبر پختونخوا کے خانپور ٹیکسلا کے علاقے جندیال میں ماہرین آثارِ قدیمہ نے ایک بڑی قدیم عمارت کے آثار دریافت کیے ہیں، جس کی لمبائی تقریباً 100 میٹر اور چوڑائی 50 میٹر ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت گندھارا تہذیب، قدیم شہر سرکپ اور اس علاقے کی تاریخی اہمیت کو سمجھنے کے لیے نئی معلومات فراہم کر سکتی ہے۔ دریافت ہونے والی عمارت کو ’جندیال ڈی‘ کا نام دیا گیا ہے، جو مشہور جندیال مندر کے سامنے اور قدیم فصیل بند شہر سرکپ کے باہر واقع ہے۔

اس تاریخی مقام کا ابتدائی ذکر ماہر آثارِ قدیمہ الیگزینڈر کننگھم نے 1864 میں کیا تھا، تاہم ایک صدی سے زیادہ عرصے تک اس عمارت پر تفصیلی تحقیق نہیں ہو سکی۔ اگست 2026 کے وسط میں شروع ہونے والی نئی کھدائی کے دوران مضبوط اور بڑی دیواریں سامنے آئی ہیں۔ ماہرین ابھی اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ عمارت قدیم دور میں عبادت گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی یا اس کا تعلق کسی عوامی یا انتظامی سرگرمی سے تھا۔

یہ دریافت خیبر پختونخوا کے محکمہ آثارِ قدیمہ نے ’خیبر پاتھ پروجیکٹ‘ کے تحت کی ہے، جس کی سربراہی اطالوی ماہر آثارِ قدیمہ ڈاکٹر لوکا ایم اولیویری کر رہے ہیں۔ منصوبے کے لیے مالی معاونت اطالوی ادارہ برائے ترقیاتی تعاون فراہم کر رہا ہے، جبکہ وینس کی کا فوسکاری یونیورسٹی کے اطالوی آثارِ قدیمہ مشن اور خیبر پختونخوا کے محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر مشترکہ طور پر تحقیق میں حصہ لے رہے ہیں۔ منصوبے کی نگرانی محکمہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالصمد کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالصمد کے مطابق جندیال میں دریافت ہونے والی عمارت اس بات کا ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا کے تاریخی مقامات میں اب بھی اہم آثار پوشیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آثارِ قدیمہ کی سائنسی تحقیق، بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون اور تاریخی ورثے کا تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق تیزی سے بڑھتی شہری آبادی اور تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث کئی قدیم مقامات کو خطرات لاحق ہیں، اس لیے ان کی حفاظت ضروری ہے۔

خیبر پاتھ پروجیکٹ کے سربراہ ڈاکٹر لوکا اولیویری نے دریافت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمارت کا غیر معمولی حجم اور محل وقوع قدیم شہر سرکپ اور گندھارا کے تاریخی منظرنامے کے بارے میں نئے سوالات پیدا کرتا ہے۔ خیبر پاتھ منصوبے کے تحت گزشتہ ایک سال سے سوات سے خانپور ٹیکسلا تک آٹھ آثارِ قدیمہ کے مقامات پر تحقیق جاری ہے۔ اس میں سرسکھ کی قدیم فصیلوں کی کھدائی اور بحالی کے ساتھ ساتھ بزیرا اور بریکوٹ جیسے تاریخی مقامات پر تحقیقی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں