ڈرون حملوں کے جواب میں افغانستان کے 10 مقامات کو نشانہ بنایا: عطا اللہ تارڑ، پاکستانی وزیرِ اطلاعات

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں ایک روز قبل افغانستان کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود میں بھیجے گئے ڈرونز کے جواب میں کی گئیں۔

وزیرِ اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان نے اپنے حقِ دفاع کے تحت ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں مبینہ طور پر ڈرونز کو ذخیرہ یا لانچ کیا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائیاں مخصوص فوجی اہداف تک محدود، نپی تلی اور متناسب تھیں۔

عطا اللہ تارڑ کے مطابق بدھ کو پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے تمام ڈرونز کو شناخت کرکے مار گرایا اور انہیں اپنے مبینہ اہداف تک پہنچنے سے روک دیا۔ پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے اس سے قبل کہا تھا کہ طورخم اور کوہاٹ کے قریب افغانستان سے آنے والے 8 ڈرونز کو مار گرایا گیا تھا۔

پاکستانی وزیرِ اطلاعات نے افغان طا-لبان حکومت پر الزام عائد کیا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں موجود د-ہشت گرد گروہوں اور ان کے مبینہ ٹھکانوں کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے جانے کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کابل حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ ہفتوں میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسلام آباد مسلسل کابل سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود کالعدم تحریک طا-لبان پاکستان اور دیگر د-ہشت گرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کی جائے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود گروہ پاکستان میں حملوں کے لیے سرحد پار پناہ گاہیں استعمال کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں