مصنوعی ذہانت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اصول بنانے چاہییں، انتونیو گوتریس، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے اپنے آخری خطاب میں عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگوں کے خاتمے، مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور عالمی اداروں میں اصلاحات کے لیے مشترکہ اقدامات کریں۔ گوتریس کی دوسری اور آخری مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔
گوتریس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مشترکہ اصول اور نگرانی ضروری ہے۔ انہوں نے ایسے کثیرالجہتی نظام کی حمایت کی جس کے ذریعے اے آئی سے متعلق حفاظتی خطرات کی نگرانی، جانچ اور معلومات کا تبادلہ کیا جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ زندگی اور موت سے متعلق فیصلے مشینوں کے حوالے نہیں کیے جانے چاہییں اور مہلک خودکار ہتھیاروں کو مستقبل کا معمول بننے سے روکنا ہوگا۔ گوتریس کے مطابق اے آئی کو انسانوں کے فائدے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ ایسی طاقت کے طور پر جو انسانوں کے اختیار سے باہر ہو جائے۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سربراہ نے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی بند ہونی چاہیے، انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری راستوں اور جہاز رانی کے حقوق بحال کیے جائیں۔
گوتریس نے موسمیاتی تبدیلی پر بھی عالمی برادری سے مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آلودگی پھیلانے والوں کو اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ انہوں نے ا-سرائیل اور فل-سطین کے تنازعے کے حل کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت بھی دہرائی، جس پر جنرل اسمبلی کے شرکا نے طویل تالیاں بجائیں۔