مکہ معاہدہ رکن ممالک کو درپیش خطرات سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے لیے ہے، دفترِ خارجہ پاکستان

پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورہ ایران کا مقصد دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی سے متعلق امور اور خطے میں امن و استحکام سمیت علاقائی پیش رفت پر بات چیت کرنا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ محسن نقوی منگل کو تہران پہنچے اور ایرانی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کو دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی معاملات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن، استحکام اور فریقین کے درمیان تعمیری رابطے کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی سے متعلق طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان برادر ممالک کے ساتھ مل کر بحران کے حل کے لیے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کی راہ ہموار کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان براہ راست اور بالواسطہ ذرائع کے ذریعے مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کا مقابلہ بھی کرتا رہے گا تاکہ تعمیری بات چیت جاری رہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ تینوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات، اجتماعی سلامتی مضبوط بنانے اور علاقائی امن و سلامتی کی ذمہ داری مشترکہ طور پر اٹھانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

طاہر اندرابی کے مطابق یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں، بلکہ رکن ممالک کو درپیش خطرات اور سکیورٹی چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

دفتر خارجہ نے آزاد جموں و کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو بھی بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان آزاد کشمیر میں بنیادی حقوق اور جمہوری آزادیوں کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ آزاد کشمیر سے متعلق بیانات دینے کے بجائے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کرے۔

اپنا تبصرہ لکھیں