‘فلسطینی ریاست نہیں بنے گی’، اسرائیل نے غزہ سے متعلق صدر ٹرمپ کا 15 نکاتی منصوبہ مسترد کر دیا

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی فوج غزہ سے انخلا نہیں کرے گی۔

نیتن یاہو نے اتوار کو کابینہ اجلاس میں کہا کہ اسرائیل 15 نکاتی دستاویز کو قبول نہیں کرتا اور اس معاملے پر امریکا کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی بعض تجاویز اسرائیل کے لیے قابلِ قبول ہیں جبکہ بعض قابلِ قبول نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے نیتن یاہو کے بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

بعد ازاں حماس نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ وہ منصوبے پر مکمل عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے اور ثالثوں اور ضامن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی خلاف ورزی کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

ٹرمپ نے 30 جولائی کو اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے تحت حماس اور غزہ میں موجود دیگر مسلح گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جائے گا۔

15 نکاتی منصوبے میں ابتدائی طور پر حماس کے بھاری ہتھیاروں، اسلحہ سازی کی تنصیبات، ہتھیاروں کے ذخائر اور سرنگوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے پر توجہ دینے کی تجویز دی گئی تھی۔

ٹرمپ کے منصوبے کے تحت حماس کے غیر مسلح ہونے کے ساتھ اسرائیلی افواج کو مرحلہ وار غزہ سے نکلنا تھا۔ اسرائیلی فوج اس وقت غزہ کے نصف سے زیادہ حصے پر قابض ہے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل صرف حقیقی اور مکمل غیر مسلح کرنے کو قبول کرے گا، جس میں ہلکے ہتھیار بھی شامل ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک وہ وزیراعظم ہیں، فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دیں گے۔

منصوبے کے تحت غزہ کی روزمرہ انتظامیہ بعد میں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کی جانی تھی، جو امریکی قیادت میں قائم بورڈ آف پیس کی نگرانی میں کام کرتی۔

اپنا تبصرہ لکھیں