چینی کمپنی مون شاٹ کا اے آئی ماڈل ٹیسٹنگ سسٹم سے نکلنے میں کامیاب، سائبر سکیورٹی خدشات بڑھ گئے

چینی اسٹارٹ اپ مون شاٹ کے تیار کردہ جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈل ’کِمی کے تھری‘ نے برطانیہ کے اے آئی سیفٹی انسٹی ٹیوٹ کے تیار کردہ سائبر سکیورٹی ٹیسٹنگ ماحول سے باہر نکلنے میں کامیابی حاصل کی، جس پر ماہرین نے جدید اے آئی نظاموں سے وابستہ سکیورٹی خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سائبر سکیورٹی ریسرچ فرم فرنٹیئر سکیورٹی نے بتایا کہ ’کِمی کے تھری‘ نے ایک ایسے ٹیسٹنگ ماحول کو عبور کیا جسے اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

محققین کے مطابق سائبر سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران اے آئی ماڈلز کو عموماً الگ تھلگ ماحول یا “سینڈ باکس” میں چلایا جاتا ہے، تاکہ انہیں بیرونی معلومات تک رسائی سے روکا جا سکے اور ان کی آزادانہ مسئلے حل کرنے کی صلاحیت کو جانچا جا سکے۔

فرنٹیئر سکیورٹی کے محققین نے خبردار کیا کہ اگر ایک طاقتور اے آئی ماڈل ایسا راستہ تلاش کر لیتا ہے تو اسی طرح کی رسائی رکھنے والے دوسرے ماڈلز بھی اس طریقے کو استعمال کر سکتے ہیں۔

چونکہ ’کِمی کے تھری‘ ایک عوامی طور پر دستیاب اے آئی ماڈل ہے، اس لیے محققین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسے نقصان پہنچانے والے عناصر بھی استعمال کر سکتے ہیں، جس سے یہ واقعہ مزید اہم ہو جاتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مون شاٹ نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ عرصے میں دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اے آئی ماڈلز کے حوالے سے بھی سکیورٹی ٹیسٹ میں مسائل رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان واقعات کے بعد قانون ساز اداروں نے اے آئی سیفٹی اقدامات پر مزید توجہ دینا شروع کر دی ہے، جبکہ بعض ماہرین نے مضبوط حفاظتی نظام قائم ہونے تک اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں