پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر سوات کی وادی کالام میں گلیشیئر پھٹنے کے واقعے کے بعد 1 شخص لاپتہ جبکہ 6 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ ریسکیو 1122 کے مطابق، اپر سوات کے علاقے کالام میں لاپتہ شخص کی تلاش جاری ہے۔
یہ واقعہ کالام کے علاقے مٹلتان میں پیش آیا، تاہم اس کی اطلاع اس وقت سامنے آئی جب بچ جانے والے افراد مرکزی کالام بازار واپس پہنچے۔ لاپتہ شخص کی شناخت سید علی شاہ کے نام سے ہوئی ہے، جو خوازہ خیلہ کا رہائشی بتایا گیا ہے۔
ان کے ساتھیوں کے مطابق خدشہ ہے کہ سید علی شاہ جاں بحق ہو چکے ہیں، تاہم ان کی لاش اب تک نہیں مل سکی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق 3 زخمیوں کو ریسکیو 1122 کی میڈیکل ٹیم نے ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ بعد ازاں انہیں کالام تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال سے مزید علاج کے لیے سیدو شریف کے سینٹرل اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مزید 3 افراد کو معمولی زخم آئے۔
پاکستان کے شمالی علاقے، خاص طور پر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقے، مون سون میں گلیشیئر پھٹنے اور گلوف جیسے واقعات کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔ گلوف سے مراد گلیشیائی جھیل سے اچانک پانی کا اخراج ہے، جو نیچے واقع آبادیوں، راستوں اور دریاؤں کے لیے خطرناک سیلاب کا سبب بن سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے 2026 کے مون سون جائزے میں خبردار کیا تھا کہ معمول سے زیادہ درجہ حرارت برف اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل کو تیز کر سکتا ہے۔
سپارکو نے گزشتہ ماہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں 130 ممکنہ خطرناک گلیشیائی جھیلوں کی نشاندہی کی تھی۔ ان میں سے 24 جھیلیں اس وقت غیر منجمد تھیں۔
پاکستان میں 13 ہزار 32 سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں، جو قطبی علاقوں کے بعد دنیا کے سب سے بڑے گلیشیائی ذخائر میں شمار ہوتے ہیں۔ ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ چترال اور گلگت بلتستان میں تقریباً 10 ہزار گلیشیئرز موسمیاتی تبدیلی کے باعث پگھل رہے ہیں۔