روزانہ مناسب مقدار میں سبز چائے پینا جگر کی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جگر کے خلیات کو نقصان سے بچانے، سوزش کم کرنے اور جگر میں چربی جمع ہونے کے عمل کو محدود کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
کچھ تحقیقات کے مطابق سبز چائے فیٹی لیور کے مریضوں میں جگر کے بعض انزائمز بہتر کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس کے اثرات ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتے۔ اسے جگر کی بیماری کا علاج یا ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
زیادہ مقدار میں سبز چائے پینے سے کیفین کے باعث بے چینی، سر درد، دل کی دھڑکن تیز ہونے اور نیند میں خلل ہو سکتا ہے۔ یہ آئرن کے جذب کو بھی متاثر کر سکتی ہے، اس لیے خون یا آئرن کی کمی والے افراد اسے کھانے کے فوراً ساتھ نہ پئیں۔
عام سبز چائے اور گرین ٹی سپلیمنٹس میں فرق ہوتا ہے۔ زیادہ مقدار والے گرین ٹی ایکسٹریکٹ یا وزن کم کرنے والے سپلیمنٹس بعض صورتوں میں جگر کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس لیے انہیں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے سبز چائے کے ساتھ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب وزن، چینی اور میٹھے مشروبات میں کمی بھی ضروری ہے۔ جگر کی بیماری یا فیٹی لیور کی صورت میں صرف سبز چائے پر انحصار کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔