بھارت اور برطانیہ کا جامع معاشی و تجارتی معاہدہ نافذ ہو گیا ہے، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ہزاروں اشیا پر محصولات کم یا ختم کیے جا رہے ہیں۔
یہ معاہدہ بدھ کے روز نافذ ہوا، جس سے بھارتی برآمد کنندگان کو برطانوی منڈی میں فوری اور وسیع رسائی ملے گی، خاص طور پر کپڑا سازی، چمڑا، زیورات، سمندری مصنوعات اور تیار خوراک کے شعبوں کو فائدہ ہوگا۔ دوسری جانب برطانیہ کو بھارتی منڈی تک مرحلہ وار زیادہ رسائی ملے گی، جس میں گاڑیاں، مشروبات، غذائی مصنوعات، ادویاتی آلات اور صنعتی سامان شامل ہیں۔
بھارتی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے اس معاہدے کو بھارت اور برطانیہ کے تعلقات میں اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے سے بھارتی کپڑا سازی، چمڑا، قیمتی پتھر و زیورات، انجینئرنگ مصنوعات، سمندری اشیا، کیمیائی مصنوعات، تیار خوراک، چھوٹے اور درمیانے کاروبار، کسانوں اور صنعت کاروں کو نئے مواقع ملیں گے۔
معاہدے کے تحت برطانیہ بھارتی اشیا کی بڑی اکثریت پر فوری طور پر محصولات ختم کر رہا ہے۔الجزیرہ کے مطابق برطانیہ 96.8 فیصد محصولاتی لائنز پر ڈیوٹی ختم کرے گا، جو تجارتی مالیت کے 97.7 فیصد حصے کا احاطہ کرتے ہیں۔
بھارت بھی 64.1 فیصد محصولاتی لائنز پر فوری طور پر ڈیوٹی ختم کرے گا، جبکہ 21 فیصد مزید لائنز پر محصولات مرحلہ وار ختم کیے جائیں گے۔ تاہم بھارت نے بعض حساس مصنوعات کو معاہدے سے باہر رکھا ہے۔
بھارت میں کیا سستا ہو سکتا ہے؟
معاہدے کے بعد بھارتی صارفین کے لیے برطانوی مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق برطانیہ سے آنے والی شراب، خاص طور پر اسکاچ، سنگھار کی مصنوعات، چاکلیٹ، نرم مشروبات، بھیڑ کا گوشت، گاڑیاں، برقی پرزے، اعلیٰ معیار کے بصری آلات اور طبی آلات پر محصولات کم ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں یہ اشیا بھارت میں نسبتاً سستی ہو سکتی ہیں۔
برطانوی صنعت کاروں کے لیے بھی بھارت کی بڑی منڈی تک رسائی آسان ہو گی، خاص طور پر گاڑیوں، خوراک، مشروبات، صحت، صنعتی آلات اور اعلیٰ ٹیکنالوجی سے متعلق شعبوں میں۔
برطانیہ میں کون سی بھارتی اشیا سستی ہوں گی؟
برطانیہ میں بھارتی مصنوعات کی بڑی تعداد پر محصولات ختم ہونے سے بھارتی اشیا کی قیمتیں کم ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی کپڑے، چمڑے کی مصنوعات، جوتے، سمندری اشیا، قیمتی پتھر، زیورات، مصالحے، سبزیاں، پھل اور تیار خوراک برطانوی منڈی میں نسبتاً سستی ہو سکتی ہیں۔
اس سے بھارتی برآمد کنندگان کو برطانوی منڈی میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہتر مقابلہ کرنے کا موقع ملے گا۔
برطانوی صارفین کے لیے بھارتی مصالحے، غذائی مصنوعات، ملبوسات، جوتے اور زیورات تک رسائی آسان اور ممکنہ طور پر کم قیمت پر ہو سکتی ہے۔
خدمات اور پیشہ ور افراد کو کیا فائدہ ہوگا؟
معاہدہ صرف اشیا تک محدود نہیں بلکہ خدماتی شعبے کو بھی فائدہ دے گا۔ بھارتی حکام کے مطابق معلوماتی ٹیکنالوجی، مالی خدمات، پیشہ ورانہ خدمات، صحت، تعلیم، انجینئرنگ، مشاورت اور مواصلات کے شعبوں کو برطانوی منڈی میں زیادہ مواقع ملیں گے۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی پیشہ ور افراد کے لیے نقل و حرکت کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ معاہدے کے تحت وہ بھارتی ورکرز جو عارضی طور پر برطانیہ میں کام کے لیے جائیں گے، انہیں پانچ سال تک قومی بیمہ میں حصہ ڈالنے سے چھوٹ مل سکے گی۔
بھارتی وزیر تجارت کے مطابق 75 ہزار سے زائد پیشہ ور افراد اور 900 سے زیادہ اداروں کو اس معاہدے سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
کون سی اشیا معاہدے سے باہر رہیں گی؟
رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ کئی شعبوں کا احاطہ کرتا ہے، مگر کچھ حساس اشیا اس میں شامل نہیں۔ مرغی، انڈے، چینی اور دودھ سے بنی مصنوعات معاہدے کے دائرے سے باہر رکھی گئی ہیں۔ بھارت نے سیب، اخروٹ، سونے کی مخصوص اقسام اور بعض موبائل فونز کو بھی معاہدے سے خارج رکھا ہے۔
تجارت پر مجموعی اثر کیا پڑے گا؟
رپورٹ کے مطابق مالی سال 26-2025 میں بھارت نے برطانیہ کو 13.44 ارب ڈالر کی اشیا برآمد کیں، جبکہ برطانیہ سے درآمدات 11.68 ارب ڈالر رہیں۔ خدمات کے شعبے میں دونوں ملکوں کی تجارت 2024 میں 35.44 ارب ڈالر رہی، جس میں بھارت کو تقریباً 7.9 ارب ڈالر کا اضافہ حاصل تھا۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ اس معاہدے سے دونوں ملکوں کے معاشی تعلقات مزید گہرے ہوں گا۔ ان کے مطابق تجارت، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور جدت کے ذریعے بھارت اور برطانیہ مشترکہ خوشحالی کے لیے کام جاری رکھیں گے۔