قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ٹیکس قوانین ترمیمی بل پر غور کے لیے 24 دسمبر کو اجلاس طلب کرلیا ہے۔
مجوزہ بل میں نان فائلرز کو سخت پابندیوں اور نااہل شخص کا درجہ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس بل کے اہم نکات درج ذیل ہیں
نان فائلرز پر پابندیاں
نان فائلرز کو گاڑی یا جائیداد خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
نان فائلرز بینک اکاؤنٹ کھولنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔
کمرشل بینکوں کو اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کی تفصیلات ایف بی آر سے شیئر کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔
فائلرز کے لیے اقدامات
فائلرز سے ان کی حقیقی آمدن اور اخراجات کے مطابق ٹیکس وصولی کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔
فائلر کے والدین، بیوی، بیٹا، یا معذور فیملی ممبر کو فائلر کے زمرے میں شامل تصور کیا جائے گا۔
نان فائلرز کے خلاف کارروائیاں
بزنس رجسٹریشن نہ کرانے والے نان فائلرز کی پراپرٹی ضبط اور بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے۔
ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا بینکوں اور آڈیٹرز کو فراہم کرنے کا اختیار ہوگا۔
ٹیکس اصلاحات کی اہمیت
یہ ترمیمی بل ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور معیشت کو دستاویزی بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ نان فائلرز کے خلاف سخت اقدامات سے ٹیکس چوری پر قابو پانے اور قومی خزانے میں اضافے کی امید کی جا رہی ہے۔
مزید تفصیلات اور بحث کا انتظار 24 دسمبر کے اجلاس میں ہوگا۔