اقوام متحدہ مصنوعی ذہانت کے خود کار نظاموں کو قابلِ اعتماد بنانے کے لیے کیا اقدامت کر رہا ہے؟

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ایجنسی نے مصنوعی ذہانت کے خودکار نمائندوں پر اعتماد بڑھانے کے لیے ایک نیا عالمی اقدام شروع کر دیا ہے۔

اس اقدام کا مقصد ایسے خودکار مصنوعی ذہانت نظاموں کے بارے میں خدشات کم کرنا ہے جو صارفین کی جانب سے آزادانہ طور پر مختلف کام انجام دے سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے خودکار نمائندے اس ٹیکنالوجی کی نئی نسل سمجھے جا رہے ہیں۔ یہ نظام صارفین کی طرف سے اوقاتِ کار ترتیب دینے، خریداری، کاروباری عمل، مالی لین دین اور بعض فیصلوں جیسے کام خودکار انداز میں انجام دے سکتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پیداواری صلاحیت بڑھا سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ کئی خطرات بھی موجود ہیں۔ آئی ٹی یو کے مطابق مصنوعی ذہانت کے خودکار نمائندے کسی شخص کی نقالی کر سکتے ہیں یا بغیر اجازت ایسے فیصلے کر سکتے ہیں جن کے اثرات حساس شعبوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

اسی خطرے کے پیشِ نظر آئی ٹی یو ایک خصوصی ماہرین گروپ قائم کرے گا، جس میں تکنیکی، قانونی اور پالیسی ماہرین شامل ہوں گے۔ یہ گروپ ایسے عالمی ضابطہ کار تیار کرے گا جن کا مقصد مصنوعی ذہانت کے خودکار نمائندوں کو قابلِ شناخت، قابلِ اعتماد اور مؤثر انسانی نگرانی کے تابع بنانا ہو گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ضابطہ کار خاص طور پر مالی لین دین، اہم بنیادی ڈھانچے اور دیگر حساس شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے خودکار نمائندوں کے استعمال کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

خصوصی ماہرین گروپ کی شریک سربراہ ڈیبورا کمپارن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے خودکار نمائندے مستقبل قریب میں انسانوں کی جانب سے مذاکرات، لین دین اور فیصلے کریں گے، اس لیے عالمی سطح پر مشترکہ اصول طے کرنا ضروری ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ خودکار نمائندے کون ہیں اور ان پر کب اور کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

آئی ٹی یو کے مطابق اس گروپ کا پہلا اجلاس نومبر میں پیرس میں ہو گا، جبکہ دوسرا اجلاس جنوری میں جنیوا میں رکھا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں