سوڈان میں برسوں سے جاری تنازع نے ہزاروں طلبہ کی تعلیم، مستقبل اور خوابوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سوڈان سے نقل مکانی کرنے والے کئی طلبہ اب وسطی افریقی جمہوریہ کے کورسی پناہ گزین کیمپ میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں وہ جلاوطنی کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
20 سالہ اسلام ابراہیم بھی انہی طلبہ میں شامل ہیں۔ وہ سوڈان میں فارمیسی کی طالبہ تھیں، مگر الفاشر کے محاصرے کے دوران ان کے والد کے قتل کے بعد انہیں اپنی والدہ اور چھ بہنوں کے ساتھ ملک چھوڑنا پڑا۔
اب اسلام ابراہیم کورسی کیمپ میں نئی آنے والی سوڈانی خواتین اور لڑکیوں کی مدد کرتی ہیں۔ وہ اپنی ادھوری طبی تعلیم سے حاصل ہونے والی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے خطرناک سفر کے بعد کیمپ پہنچنے والے پناہ گزینوں کی مدد کر رہی ہیں۔
اسلام ابراہیم کا کہنا ہے کہ وہ صرف اسی صورت سوڈان واپس جانا چاہتی ہیں اگر انہیں اپنی تعلیم جاری رکھنے کا موقع ملے، نہ کہ والد کی وراثت تقسیم کرنے یا خاندانی دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے۔ رپورٹ کے مطابق کورسی کیمپ میں اسلام کی کہانی اکیلی نہیں۔ الجزیرہ نے 30 سے زائد سوڈانی یونیورسٹی طلبہ سے بات کی، جنہوں نے بتایا کہ جنگ نے ان کی زندگیوں کو روک دیا ہے۔
زیادہ تر طلبہ دارفور کے سرحدی قصبے امدافوک سے تعلق رکھتے ہیں، جو پہلے جنگ سے بچنے والوں کے لیے پناہ گاہ بنا اور بعد میں خود بھی عدم تحفظ کا شکار ہو گیا۔
کئی طلبہ کو ابتدا میں امید تھی کہ نقل مکانی عارضی ہو گی اور وہ لڑائی ختم ہونے کے بعد واپس جا کر اپنی ڈگریاں مکمل کر لیں گے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ امید کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دارفور اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے زیرِ اثر علاقوں میں لاکھوں اسکول اور یونیورسٹی طلبہ تین سال سے باقاعدہ تعلیم یا قومی سطح کے تسلیم شدہ امتحانات تک رسائی سے محروم ہیں۔
اس کے برعکس سوڈانی فوج کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں، مسلسل رکاوٹوں کے باوجود، کئی طلبہ آہستہ آہستہ کلاس رومز میں واپس آ چکے ہیں اور امتحانات بھی دے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین، یو این ایچ سی آر کی مدد سے کئی سوڈانی پناہ گزینوں کو بنگی یونیورسٹی میں داخلے ملے ہیں، مگر ان کے لیے تعلیم دوبارہ شروع کرنا آسان نہیں۔ رپورٹ کے مطابق سوڈانی طلبہ نے اپنی پچھلی تعلیم عربی میں حاصل کی تھی، جبکہ اب انہیں فرانسیسی زبان میں تعلیم حاصل کرنی پڑ رہی ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ نئی زبان، مالی مشکلات، جلاوطنی کا نفسیاتی دباؤ اور ضائع ہونے والے سال ان کے لیے بہت بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔
گمر الشیخ نامی طالبہ، جو بنگی یونیورسٹی میں سوشیالوجی پڑھ رہی ہیں، کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنے پیاروں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ یونیورسٹی کی ڈگری لے کر واپس آئیں گی، مگر موجودہ تعلیمی ماحول اور مشکلات میں یہ وعدہ پورا کرنا تقریباً ناممکن لگتا ہے۔
ایک اور طالب علم بدرالدین عیسیٰ نے بتایا کہ ان کے والد امدافوک میں امام تھے اور ریپڈ سپورٹ فورسز پر تنقید کے باعث خاندان کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد انہیں سوڈان چھوڑنا پڑا۔
کچھ طلبہ کے لیے جلاوطنی نے انتہائی تکلیف دہ صورتحال بھی پیدا کی ہے۔
انتظار الصادق نامی طالبہ کے شوہر جنگ میں مارے گئے۔ وہ اپنے کم عمر بچے کے ساتھ وسطی افریقی جمہوریہ پہنچیں، مگر بنگی یونیورسٹی میں داخلہ ملنے کے بعد انہیں تین سالہ بیٹے کو اپنی والدہ کے پاس کورسی کیمپ میں چھوڑ کر تعلیم جاری رکھنی پڑی۔
انتظار الصادق کا کہنا ہے کہ وہ اس لیے پڑھ رہی ہیں کہ جنگ ان سے سب کچھ نہ چھین لے، اگر تعلیم بھی رک گئی تو وہ گھر، شوہر اور مستقبل سب کچھ کھو دیں گی۔
احمد نامی ایک طالب علم، جو قانون پڑھ رہے تھے اور جج بننا چاہتے تھے، اب جلاوطنی میں اپنی تعلیم روکنے پر مجبور ہیں۔ ان کے والد الفاشر کی لڑائی میں مارے گئے، جبکہ خاندان پر بعد میں نیالا میں بھی حملہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق کورسی کیمپ میں ایسے کئی نوجوان موجود ہیں جو کبھی فارماسسٹ، جج، انجینئر، استاد یا محقق بننے کا خواب دیکھتے تھے، مگر اب وہ پناہ گزین کیمپ، نئی زبان، مالی تنگی اور غیر یقینی مستقبل کے درمیان اپنی تعلیم بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
احمد نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “ہم سوڈان کی کھوئی ہوئی نسل ہیں، ہم نے اس جنگ میں سب کچھ کھو دیا۔”