“گریٹ انڈین بسٹرڈ” کی آباد ی میں کمی نہیں آئی لیکن اس کا مسکن سکڑتا جا رہا ہے، وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کی رپورٹ

بھارت میں شدید خطرے سے دوچار پرندے “گریٹ انڈین بسٹرڈ” کی آبادی فی الحال مستحکم بتائی گئی ہے، تاہم اس کے مسکن کے سکڑنے پر تشویش برقرار ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق 7 سال بعد جاری ہونے والی پہلی سرکاری جائزہ رپورٹ میں گریٹ انڈین بسٹرڈ کی آبادی 110 سے 150 کے درمیان بتائی گئی ہے۔

وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017 کے بعد سے گریٹ انڈین بسٹرڈ کی آبادی میں بڑی کمی نہیں آئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اندازے کے مطابق اس پرندے کی آبادی 130 ریکارڈ کی گئی، جس میں 21 پرندوں کی کمی بیشی کا امکان ہے۔

تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ پرندہ راجستھان کے تھر صحرا میں جائزہ لیے گئے علاقے کے صرف 16 فیصد حصے میں پایا جا رہا ہے، حالانکہ مناسب سبزہ والا بڑا علاقہ اب بھی موجود ہے۔ یہ جائزہ صرف راجستھان میں گریٹ انڈین بسٹرڈ کے پھیلاؤ تک محدود رہا، جبکہ گجرات کو شامل نہیں کیا گیا، جہاں جنگل میں صرف چند مادہ پرندوں کے موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2024-25 کے دوران کیے گئے جائزوں میں گریٹ انڈین بسٹرڈ کے 35 جھنڈ، چنکارا کے 1,568 ریوڑ اور صحرائی لومڑیوں کے 79 مشاہدات ریکارڈ کیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیل گائے، جنگلی سور اور آزاد گھومنے والے کتوں جیسی غیر مقامی انواع بھی ریکارڈ کی گئیں۔

گریٹ انڈین بسٹرڈ عام طور پر گھاس کے ہموار میدانوں، کم آبادی والے علاقوں اور ایسے مقامات کو ترجیح دیتا ہے جہاں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے کم ہوں۔ رپورٹ کے مطابق یہ پرندہ زیادہ تر ڈیزرٹ نیشنل پارک اور راجستھان کے جیسلمیر ضلع میں پوکھران کے علاقے کے اطراف پایا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق گریٹ انڈین بسٹرڈ کئی برسوں سے بھارت میں معدومیت کے دہانے پر ہے۔ اس پرندے کو مسکن کے کم ہونے، شکار، انڈوں پر جنگلی جانوروں کے حملوں، بجلی کی تاروں سے ٹکرانے اور تعمیراتی پھیلاؤ جیسے خطرات کا سامنا ہے۔

حالیہ برسوں میں شمسی اور ہوا سے توانائی کے منصوبوں کے پھیلاؤ کے باعث بجلی کی ترسیلی لائنیں بھی اس پرندے کے لیے بڑا خطرہ بن گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق گریٹ انڈین بسٹرڈ کی سامنے دیکھنے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ بجلی کی تاروں سے بچنے کے لیے بروقت رخ نہیں بدل پاتا اور ٹکراؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال دسمبر میں گریٹ انڈین بسٹرڈ کے تحفظ کے لیے مخصوص علاقوں میں حفاظتی اقدامات کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے بعض بجلی کی لائنوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے مخصوص راہداریوں کے قیام اور کچھ حصوں میں بجلی کی لائنوں کو زمین کے اندر بچھانے کی ہدایت دی تھی۔

رپورٹ کے مطابق بجلی کی لائنوں، زرعی باڑ، سڑکوں، پانی کے ذرائع اور شمسی توانائی کے منصوبوں کے پھیلاؤ نے مسکن کے بکھراؤ اور اموات کے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، گریٹ انڈین بسٹرڈ کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی منصوبے پر بھی کام جاری ہے، جس میں مرکزی حکومت، راجستھان حکومت اور بین الاقوامی اداروں کا تعاون شامل ہے۔ اس منصوبے کے تحت پرندے کے مسکن کی بہتری، انڈوں کا تحفظ، شکاری جانوروں پر قابو پانے اور بجلی کی لائنوں کے اثرات کم کرنے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

جیسلمیر کے سام اور رام دیورا کے افزائشی مراکز بھی اس منصوبے کا اہم حصہ ہیں، جہاں جنگل سے حاصل کیے گئے انڈوں کو محفوظ ماحول میں سینچا اور پالا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق افزائش کے ذریعے تیار کیے گئے پرندوں کو منصوبے کے اگلے مرحلے میں دوبارہ قدرتی ماحول میں چھوڑا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق تھر کا خطہ اس پرندے کی آبادی کی بحالی کے لیے آخری قابلِ عمل علاقہ ہے، کیونکہ یہاں اب بھی نسبتاً کم متاثرہ قدرتی ماحول اور جڑے ہوئے مسکن موجود ہیں۔ گریٹ انڈین بسٹرڈ کے علاوہ تھر میں چنکارا، صحرائی لومڑی، بھارتی لومڑی، صحرائی بلی، کانٹے دار دم والی چھپکلی اور کئی شکاری پرندے بھی پائے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آبادی کا مستحکم رہنا امید افزا ہے، لیکن محدود مسکن، بجلی کی لائنوں سے ٹکراؤ اور تعمیراتی پھیلاؤ نے اس نایاب پرندے کے مستقبل کو اب بھی خطرے میں رکھا ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں