“ڈیجیٹل ازبکستان 2030″، سرکاری خدمات کے نظام میں کیا تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں؟

ازبکستان میں سرکاری خدمات کو تیزی سے ڈیجیٹل نظام پر منتقل کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں شہری اب ٹیکس جمع کرانے، بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے اور ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق متعدد کام اپنے موبائل فون کے ذریعے انجام دے سکتے ہیں۔

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ازبکستان وسطی ایشیا میں ایک جدید ڈیجیٹل ریاست قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ شہریوں کی ذاتی معلومات کے تحفظ اور سائبر سکیورٹی سے متعلق خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔

ازبک حکومت کی ڈیجیٹل اصلاحات کا بنیادی مقصد سرکاری خدمات کو زیادہ تیز، آسان اور شفاف بنانا ہے۔ پہلے جن کاموں کے لیے شہریوں کو مختلف سرکاری دفاتر جانا پڑتا تھا، ان میں سے متعدد خدمات اب آن لائن دستیاب ہیں۔ ان میں ٹیکس، یوٹیلیٹی بل، سرکاری دستاویزات اور ڈرائیونگ لائسنس کے لیے درخواست دینا بھی شامل ہے۔

یہ منصوبہ حکومت کی ’ڈیجیٹل ازبکستان 2030‘ حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت معیشت، تعلیم، صحت، سماجی خدمات اور سرکاری انتظامیہ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

ازبکستان کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک کی سرکاری خدمات کی موبائل ایپ استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس ایپ پر 630 سے زیادہ سرکاری خدمات، 17 اقسام کی ڈیجیٹل دستاویزات اور 50 سے زیادہ الیکٹرانک اطلاعات دستیاب ہیں۔

دی ڈپلومیٹ کے مضمون میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل خدمات کی تیز رفتار توسیع کے ساتھ ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا ازبکستان اپنے تقریباً تین کروڑ 80 لاکھ شہریوں کی ذاتی معلومات کو سائبر حملوں، غیر قانونی رسائی اور غلط استعمال سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ازبکستان میں ٹیکنالوجی کی ترقی بعض اوقات ان قوانین اور نگرانی کے نظام سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے جو شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔

ازبک حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے ڈیجیٹل نظام کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2024 میں تقریباً 70 لاکھ سائبر حملوں کو روکا گیا، جبکہ 2025 میں ایسے حملوں کی تعداد 10 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ گئی۔ حکام نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ 2026 میں یہ تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے۔

فروری 2026 میں ازبکستان کے تین سرکاری معلوماتی نظاموں تک غیر قانونی رسائی کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر ابتدا میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈیڑھ کروڑ افراد کا ڈیٹا متاثر ہوا، تاہم حکام کی ابتدائی تحقیقات میں تقریباً 60 ہزار ریکارڈز تک رسائی کی تصدیق کی گئی۔

اس واقعے کے بعد شہریوں کی شناخت کے لیے استعمال ہونے والے ’ون آئی ڈی‘ نظام کی سکیورٹی مزید مضبوط کی گئی اور ذاتی معلومات تک رسائی کے لیے صارف کی رضامندی کا اضافی نظام متعارف کرایا گیا۔

ازبکستان میں ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق قانون موجود ہے اور سرکاری اداروں کو شہریوں کا ڈیٹا محفوظ رکھنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق صرف قانون بنا دینا کافی نہیں، بلکہ اس پر مؤثر عمل درآمد، آزاد نگرانی اور سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ ماہرین کی موجودگی بھی ضروری ہے۔

ملک کو دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی محدود سہولت، عوام میں ڈیجیٹل مہارت کی کمی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں نجی کمپنیوں کی نسبتاً کم شرکت جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ازبکستان کی ڈیجیٹل ریاست بنانے کی کوششوں کی کامیابی کا انحصار صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ کتنی سرکاری خدمات آن لائن دستیاب ہیں۔ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ یہ نظام شہریوں کے لیے آسان ہونے کے ساتھ محفوظ بھی ہو اور لوگوں کو یقین ہو کہ ان کی ذاتی معلومات کا غلط استعمال نہیں کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں