‘مجھے کبھی بڑی ہٹ نہیں ملی’، جاوید جعفری فلم انڈسٹری میں اسٹار ڈم پر کیا کہتے ہیں؟

بالی ووڈ اداکار جاوید جعفری نے کہا ہے کہ فلم انڈسٹری میں اسٹارڈم صرف صلاحیت سے نہیں بلکہ پی آر، گروپنگ اور بڑی کامیابی سے بھی طے ہوتا ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق جاوید جعفری نے ایک انٹرویو میں اپنے طویل فلمی سفر، کرداروں، کامیڈی، ڈانس اور ٹی وی کے تجربات پر کھل کر بات کی۔

جاوید جعفری جلد اندر کمار کی کامیڈی فلم “دھمال 4” میں ایک بار پھر مناو کے کردار نبھا آ رہے ہیں۔ انہوں نے پہلی بار یہ کردار 2007 کی فلم “دھمال” میں ادا کیا تھا۔

جاوید جعفری نے کہا کہ مناو کے کردار میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی، کیونکہ “دھمال” فرنچائز کی اصل پہچان اس کے کردار ہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاروں فلموں میں ارشد وارثی اور ان کا کردار آدی-مناو مستقل رہا، جبکہ دیگر کردار وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہے۔

ارشد وارثی کے ساتھ اپنی کیمسٹری پر بات کرتے ہوئے جاوید جعفری نے کہا کہ وہ ارشد کو اداکار بننے سے بھی پہلے سے جانتے ہیں اور دونوں کے درمیان دوستی، محبت اور احترام کا رشتہ بہت پرانا ہے۔

اپنے کیریئر پر بات کرتے ہوئے جاوید جعفری نے کہا کہ گزشتہ دو سال ان کے لیے بہت مصروف رہے، جن میں انہوں نے مختلف مزاج کی فلموں اور ویب سیریز میں کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے کیریئر کا بہترین وقت ابھی آنا باقی ہے، کیونکہ وہ اب بھی بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

جاوید جعفری نے 1990 کی دہائی میں اے لسٹ اسٹار نہ بننے کے سوال پر کہا کہ انڈسٹری میں آپ کو کس طرح پیش کیا جاتا ہے، یہ بہت اہم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق فلم انڈسٹری کا اپنا ایک نظام ہے، جہاں پی آر اور گروپنگ بھی اداکار کے کیریئر پر اثر ڈالتی ہے۔

جاوید جعفری نے کہا کہ وہ کسی گروپ کا حصہ نہیں تھے اور انہوں نے اپنے بارے میں مثبت تاثر بنانے کے لیے پی آر کا استعمال بھی اس انداز میں نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی اداکار کو بڑی ہٹ مل جائے تو پھر لوگ بحث نہیں کرتے، کیونکہ کامیابی خود بولتی ہے۔

جاوید جعفری نے سلمان خان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں کچھ لوگوں نے سلمان کو سنجیدگی سے نہیں لیا، لیکن “میں نے پیار کیا” کی کامیابی کے بعد سب ان کے پیچھے بھاگنے لگے۔ جاوید جعفری کے مطابق انہیں وہ بڑی ہٹ نہیں ملی جو کسی اداکار کو مرکزی اسٹار کے طور پر پیش کر تی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی پہلی فلم “میری جنگ” بڑی کامیاب تھی، لیکن اس میں انہیں ولن کے طور پر متعارف کرایا گیا، جس کے بعد لوگوں نے انہیں اسی زاویے سے دیکھنا شروع کر دیا۔ جاوید جعفری کے مطابق اس تاثر کو بدلنے کے لیے کسی کو ان کے ساتھ ایک تفریحی میوزیکل فلم بنانی چاہیے تھی، لیکن ایسا نہ ہو سکا اور انہوں نے خود بھی اس طرح خود کو پیش نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ کامیڈی کرداروں کی طرف ان کا رجحان “ججانتارم ممنتارم”، “سلام نمستے” اور پھر “دھمال” کے بعد زیادہ مضبوط ہوا۔

جاوید جعفری نے کہا کہ جب کوئی کردار یا انداز کامیاب ہو جاتا ہے تو انڈسٹری اسی طرح کے کرداروں کے لیے آپ سے رجوع کرنے لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سولو ہیرو بننے کے لیے سولو ہٹ ضروری ہوتی ہے، ورنہ بہت سے اچھے اداکار بھی سپورٹنگ کردار تک محدود رہ جاتے ہیں۔

اپنے والد جگدیپ سے سیکھنے کے بارے میں جاوید جعفری نے کہا کہ ان کے والد بھارتی سنیما کے بڑے کامیڈینز میں شامل تھے، جن کی کومک ٹائمنگ اور باریکیاں آج بھی ان کے ذہن میں موجود ہیں۔

“دھمال” میں مناو کے کردار کے حوالے سے جاوید جعفری نے کہا کہ عمر تو بڑھی ہے، لیکن کردار کی چال، انداز اور بات کرنے کا طریقہ وہی رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوش قسمتی سے ان کا وزن زیادہ نہیں بدلا، اس لیے وہ آج بھی پہلی “دھمال” والے کپڑوں میں فٹ آ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں