وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان سے متعلق صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی سول اور عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اور یکسو فیصلہ کر لیا ہے۔
اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر بھی شریک تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایک بات طے ہے کہ دہشت گردی کو اجتماعی طور پر ختم کرنا ہوگا اور یہ سول و عسکری قیادت کا مشترکہ فیصلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں انتہائی سنگین واقعات پیش آئے، جن میں پولیس اہلکار، فوجی جوان اور شہری شہید ہوئے۔ وزیراعظم کے مطابق حالیہ حملوں کے جواب اور بعد کی کارروائیوں میں 54 دہشت گرد مارے گئے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پاکستان سے آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت پر پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مشرقی پڑوسی کے اس فتنے میں ملوث ہونے میں کوئی شک نہیں۔ وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردوں کو مالی معاونت اور اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ افغانستان میں موجود دہشت گرد بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حملے کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دشمن پاکستان کو عالمی سطح پر ملنے والی عزت، سفارتی کامیابیوں اور گزشتہ سال مئی کی چار روزہ جنگ کے بعد حاصل ہونے والے مقام کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں اپنی، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور بلوچستان حکومت کی جانب سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ اس فتنے کے خاتمے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تمام وسائل استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کو ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنایا جائے گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معصوم شہریوں نے قربانیاں دی ہیں، اور پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔
اجلاس میں بلوچستان کے گورنر جعفر خان مندوخیل، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے، جہاں انہیں صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور حالیہ دہشت گرد حملوں پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستانی فوج کے مطابق، بلوچستان میں 5 جولائی کے بعد دہشت گرد حملوں اور بعد کی کارروائیوں میں 4 شہری، 27 پولیس اہلکار اور 11 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ 54 دہشت گرد مارے گئے۔
اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور کہا کہ ان کی قربانیاں دہشت گردی کے خاتمے کی بنیاد بنیں گی۔