بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان یورینیم سپلائی کا نیا معاہدہ کیا ہے؟

بھارت نے آسٹریلیا کے ساتھ یورینیم سپلائی کے اہم معاہدے کو حتمی شکل دے دی ۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے آسٹریلیا کے دورے کے دوران آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز سے ملاقات کے بعد کہا کہ دونوں ممالک نے جوہری توانائی سے متعلق ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

مودی کے مطابق یہ معاہدہ آسٹریلیا سے بھارت کو یورینیم کی فراہمی کی راہ ہموار کرے گا اور بھارت کے صاف توانائی اہداف کو نئی رفتار دے گا۔

جاری کیے گئےمشترکہ بیان کے مطابق آسٹریلوی یورینیم بھارت کو صرف پرامن مقاصد کے لیے فراہم کیا جائے گا، جبکہ اس کی برآمدات بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی، آئی اے ای اے کے حفاظتی اصولوں کے تحت ہوں گی۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ یہ معاہدہ بھارت میں غیر فوسل فیول بجلی کی صلاحیت بڑھانے میں مدد دے گا۔

آسٹریلیا دنیا کے بڑے یورینیم ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کے پاس دنیا کے تقریباً 28 فیصد یورینیم وسائل موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، بھارت تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور بجلی کی طلب کے باعث آنے والے برسوں میں جوہری توانائی کی پیداوار میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔

امریکی ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بھارت کا ہدف 2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری توانائی کی صلاحیت حاصل کرنا ہے، جبکہ اس وقت بھارت کی بجلی میں جوہری توانائی کا حصہ محدود ہے۔

بھارت اور آسٹریلیا نے 2014 میں سول نیوکلیئر تعاون معاہدہ کیا تھا، جس نے بھارت کو آسٹریلوی یورینیم خریدنے کا راستہ فراہم کیا، تاہم قانونی اور سیاسی رکاوٹوں کے باعث عملی تجارت محدود رہی۔

آسٹریلیا ماضی میں ان ممالک کو یورینیم برآمد کرنے میں ہچکچاہٹ دکھاتا رہا ہے جنہوں نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے، این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے۔ بھارت بھی این پی ٹی کا رکن نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئے انتظامات کے تحت بھارت کے سول اور فوجی جوہری پروگراموں میں فرق برقرار رکھنے اور آئی اے ای اے سیف گارڈز کے ذریعے شفافیت یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معاہدے کو بھارت کی توانائی سلامتی کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ جوہری بجلی کو نئی دہلی اپنے صاف توانائی اہداف، صنعتی ترقی اور بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔

مودی اور البانیز کی ملاقات میں دفاع، انڈو پیسیفک سکیورٹی، تجارت اور سرمایہ کاری پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

آسٹریلیا میں بھارتی نژاد آبادی میں اضافے نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سماجی بنیاد فراہم کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارت سے تعلق رکھنے والے افراد اب آسٹریلیا میں بیرون ملک پیدا ہونے والے رہائشیوں کا سب سے بڑا گروپ بن چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں