اگر آپ نے کبھی پارک میں چہل قدمی یا درختوں کے درمیان کچھ وقت گزارنے کے بعد ذہنی سکون محسوس کیا ہے تو یہ صرف خیال نہیں، بلکہ جسم کے اندر ہونے والی حیاتیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔
کھلی فضا اور فطرت کے قریب وقت گزارنے سے جسم میں کئی واضح تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ اس سے ذہنی دباؤ کے ہارمونز کم ہو سکتے ہیں، بلڈ پریشر بہتر ہو سکتا ہے، دل کی دھڑکن نسبتاً پرسکون ہو سکتی ہے اور آنتوں کی صحت پر بھی مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
ان فوائد کے لیے گھنٹوں جنگل میں رہنا ضروری نہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق صرف 20 منٹ فطری ماحول میں گزارنے سے بھی جسم اور ذہن پر اچھے اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں۔ دوپہر کے وقت پارک میں مختصر چہل قدمی، یا سبز ماحول میں کسی بینچ پر کچھ دیر بیٹھنا بھی فائدہ دے سکتا ہے۔
جب انسان سبز درخت دیکھتا ہے، صنوبر یا مٹی کی خوشبو محسوس کرتا ہے، پتوں کی سرسراہٹ یا پرندوں کی آواز سنتا ہے تو جسم کا خودکار اعصابی نظام فوراً ردعمل دیتا ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو دل کی دھڑکن، سانس اور بلڈ پریشر جیسے غیر ارادی جسمانی عمل کو قابو میں رکھتا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں حیاتیاتی تنوع کی پروفیسر بیرونس کیتھی ولس کے مطابق فطرت کے ماحول میں جانے سے جسم میں سکون سے جڑی تبدیلیاں دیکھی جاتی ہیں۔ ان میں بلڈ پریشر کا کم ہونا، دل کی دھڑکن کے انداز میں تبدیلی اور دل کا نسبتاً آہستہ دھڑکنا شامل ہے۔
برطانیہ میں تقریباً 20 ہزار افراد پر کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ ہر ہفتے کم از کم 120 منٹ سبز ماحول میں گزارتے ہیں، ان میں اچھی صحت اور بہتر ذہنی کیفیت ظاہر کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
اسی بنیاد پر کچھ علاقوں میں لوگوں کو فطرت سے جوڑ کر جسمانی اور ذہنی صحت بہتر بنانے کے تجربات بھی کیے گئے۔ ایسے تجربات میں لوگوں کو سبز ماحول، باغات، پارکوں یا فطری سرگرمیوں سے منسلک کیا گیا، جس کے خوشی اور ذہنی سکون پر مثبت اثرات سامنے آئے۔
فطرت میں وقت گزارنے کا اثر جسم کے ہارمونل نظام پر بھی پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق باہر کے ماحول میں وقت گزارنے سے کورٹیسول اور ایڈرینالین جیسے ہارمونز کی سطح کم ہو سکتی ہے۔ یہ ہارمونز عام طور پر ذہنی دباؤ یا بے چینی کے دوران بڑھ جاتے ہیں۔
کیتھی ولس کے مطابق ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ جو افراد تین دن تک ایک کمرے میں ہینوکی، یعنی جاپانی صنوبر، کے تیل کی خوشبو سانس کے ذریعے لیتے رہے، ان میں ایڈرینالین ہارمون میں واضح کمی آئی، جبکہ خون میں وائرس سے لڑنے والے مدافعتی خلیات کی تعداد بڑھی۔
یہ خلیات جسم کو وائرس سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق اس خوشبو کے اثرات فوری طور پر ختم نہیں ہوئے، بلکہ دو ہفتے بعد بھی شرکا کے جسم میں ان خلیات کی سطح زیادہ رہی۔
یونیورسٹی آف الینوائے اربانا شیمپین کی پروفیسر منگ کو کے مطابق فطرت جسم کے اس حصے کو پرسکون کر سکتی ہے جسے سکون کی ضرورت ہو، اور اس حصے کو مضبوط بنا سکتی ہے جسے تقویت درکار ہو۔ ان کے مطابق فطرت میں تین دن گزارنے کا اثر وائرس سے لڑنے والے نظام پر کافی نمایاں ہو سکتا ہے، اور ایک ماہ بعد بھی یہ اثر بنیادی سطح سے 24 فیصد زیادہ رہ سکتا ہے۔
تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ فطرت میں کم وقت گزارنے کے بھی چھوٹے مگر برقرار رہنے والے مثبت اثرات ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پودے مختلف نامیاتی مرکبات خارج کرتے ہیں۔ جب انسان انہیں سانس کے ذریعے اندر لیتا ہے تو ان کے کچھ ذرات خون میں شامل ہو سکتے ہیں۔
کیتھی ولس کے مطابق صنوبر کے جنگل کی خوشبو انسان کو صرف 90 سیکنڈ میں پرسکون کر سکتی ہے، اور یہ اثر تقریباً 10 منٹ تک برقرار رہ سکتا ہے۔
ایک اور تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ بہت کم عمر بچوں پر بھی بعض خوشبوؤں کا پرسکون اثر پڑ سکتا ہے، حالانکہ ان کے ذہن میں ان خوشبوؤں سے متعلق کوئی یادداشت موجود نہیں ہوتی۔ اس تحقیق میں لیمونین نامی خوشبو کے استعمال سے بچوں میں سکون کا ردعمل دیکھا گیا۔
فطرت کا تعلق آنتوں کی صحت سے بھی جوڑا جاتا ہے، کیونکہ مٹی اور پودوں میں مفید بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔ کیتھی ولس کے مطابق یہ وہی قسم کے اچھے بیکٹیریا ہو سکتے ہیں جنہیں لوگ عام طور پر مفید جراثیم والی غذاؤں یا مشروبات کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پروفیسر منگ کو کے مطابق کچھ قدرتی بیکٹیریا سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر مزاج پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔ اسی طرح پودوں سے خارج ہونے والے نباتاتی جراثیم کش مرکبات بیماریوں کے خلاف جسم کی مدد کر سکتے ہیں۔
انفیکشن سائنس کے ماہر ڈاکٹر کرس وین ٹلیکن فطرت کو ایک ایسا مثبت ماحول قرار دیتے ہیں جو مدافعتی نظام کو متحرک کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق بچوں کا جنگل یا مٹی میں کھیلنا، جہاں مٹی کے ذرات ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں، مدافعتی نظام کے لیے ایک قدرتی تجربہ بن سکتا ہے۔
ہر شخص کے لیے فوری طور پر جنگل یا بڑے پارک تک جانا ممکن نہیں، لیکن ماہرین کے مطابق گھر میں فطرت کے چھوٹے اشارے بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
کیتھی ولس کے مطابق گھر میں پھول رکھنے سے بھی ذہنی سکون پر اثر پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر سفید اور پیلے گلاب دماغی سرگرمی پر نسبتاً زیادہ پرسکون اثر ڈال سکتے ہیں۔
خوشبو کے لیے ایسا آلہ استعمال کیا جا سکتا ہے جو کمرے میں قدرتی تیل کی خوشبو پھیلاتا ہو۔ پائنین جیسے قدرتی خوشبودار تیل سکون کا احساس پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اگر باہر جانا ممکن نہ ہو تو فطرت کی تصویر دیکھنا بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جنگل کی تصویر دیکھنے یا کسی سبز منظر پر نظر ڈالنے سے دماغی لہروں میں ایسی تبدیلیاں آ سکتی ہیں جو ذہنی دباؤ میں کمی سے منسلک ہیں۔