دنیا کی تقریباً 99 فیصد آبادی نے آج ایک ہی وقت میں دن کی روشنی یا ٹوائی لائٹ کا تجربہ کیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 8 جولائی کو 11 بج کر 10 منٹ گرین وچ مین ٹائم کے مطابق دنیا کے تقریباً 8 ارب 20 کروڑ افراد کسی نہ کسی شکل میں سورج کی روشنی میں موجود رہے۔ پاکستانی وقت کے مطابق یہ لمحہ آج سہ پہر 4 بج کر 10 منٹ کے قریب آیا۔
یہ صورتحال زمین کے جھکاؤ اور شمالی نصف کرہ میں موسمِ گرما کے باعث پیدا ہوتی ہے، جب دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقے ایک ہی وقت میں دن کی روشنی میں آ جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس لمحے میں شمالی امریکا، جنوبی امریکا، یورپ، افریقہ اور ایشیا کے بیشتر حصوں میں دن کی روشنی موجود رہی، جہاں دنیا کی زیادہ تر آبادی رہتی ہے۔ اس دوران آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوب مشرقی ایشیا کے کچھ حصے، انٹارکٹیکا اور ارد گرد کے سمندری علاقے رات کے اندھیرے میں رہے۔
الجزیرہ کے مطابق اس لمحے تقریباً 6 ارب 90 کروڑ افراد مکمل دن کی روشنی یا ٹوائی لائٹ میں رہے، جو دنیا کی آبادی کا تقریباً 83 فیصد بنتا ہے۔ مزید 58 کروڑ 10 لاکھ افراد سِول ٹوائی لائٹ میں رہے۔ سول ٹوائی لائٹ میں آسمان اتنا روشن ہوتا ہے کہ زندگی کی عام سرگرمیاں مصنوعی روشنی کے بغیر کی جا سکتی ہیں۔
تقریباً 49 کروڑ 80 لاکھ افراد ناٹیکل ٹوائی لائٹ میں رہے، یعنی وہ لمحہ جب افق نظر آتا ہے مگر آسمان کافی تاریک ہو چکا ہوتا ہے۔
مزید 24 کروڑ 90 لاکھ افراد آسٹرونومیکل ٹوائی لائٹ میں رہے، یعنی وہ لمحہ جب مکمل رات سے پہلے آسمان میں صرف ہلکی سی روشنی باقی رہتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف 8 کروڑ 30 لاکھ افراد، یعنی دنیا کی آبادی کے تقریباً 1 فیصد نے مکمل رات کا تجربہ کیا۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ صرف ایک دن کا واقعہ نہیں۔ ہر سال تقریباً 18 مئی سے 17 جولائی تک تقریباً 60 دن ایسے ہوتے ہیں جب مختصر وقت کے لیے دنیا کی تقریباً 99 فیصد آبادی دن یا ٹوائی لائٹ میں ہوتی ہے۔
8 جولائی اس لیے زیادہ مشہور ہوا کیونکہ 2022 میں سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہوا تھا کہ صرف اسی دن ایسا ہوتا ہے۔ بعد میں ٹائم اینڈ ڈیٹ کی تحقیق نے واضح کیا کہ 8 جولائی ان تاریخوں میں شامل ہے جب یہ اوور لیپ سب سے زیادہ ہوتا ہے، مگر ایسا ہر سال تقریباً دو ماہ تک روزانہ مختصر وقت کے لیے ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جون solstice شمالی نصف کرہ میں سال کا سب سے طویل دن ہوتا ہے، لیکن 8 جولائی کے قریب سورج کی پوزیشن ایسی ہوتی ہے کہ روشنی زیادہ آبادی والے علاقوں، خاص طور پر ایشیا کے گنجان آباد حصوں تک پھیل جاتی ہے۔
اسی لیے جولائی کے شروع میں دنیا کے سب سے زیادہ انسان ایک ہی وقت میں دن کی روشنی کا تجربہ کرتے ہیں۔